انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 424

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۲۴ دیباچہ تفسیر القرآن جمع القرآن میں تمہید کے شروع میں بیان کر چکا ہوں کہ قرآن کریم سے پہلے کی کوئی الہامی کتاب اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں بلکہ پہلی تمام کتب میں اتنا تصرف ہو چکا ہے کہ یقین کے ساتھ اُن پر عمل کرنا ایک سچے طلب گار کے لئے ناممکن ہو گیا ہے۔اس کے برخلاف قرآن کریم جوں کا توں لفظاً لفظاً اُسی طرح محفوظ ہے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کے ابتداء سے نازل ہونا شروع ہوا۔پہلا الہام قرآن کریم کی چند آیات کا غار حرا میں ہوا اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک قرآن کریم نازل ہوتا چلا گیا۔گویا کل عرصہ نزول 23 سال ہے۔تاریخوں سے ثابت ہے کہ شروع میں وحی تھوڑی تھوڑی کر کے نازل ہوتی تھی پھر نزول کی رفتار بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں پے در پے اور کثرت سے وحی نازل ہوئی۔اس کے علاوہ اور حکمتوں کے یہ حکمت بھی تھی کہ اسلام جو مسائل دنیا میں پیش کر رہا تھا وہ بالکل نئے تھے۔ابتداء میں اُن کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل تھا اس لئے قرآن کریم ابتداء میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔جب لوگوں کے ذہن میں اسلام کے اُصول رچ گئے اور قرآنی مضامین کا سمجھنا اُن کے لئے آسان ہو گیا تو پھر قرآن کریم کا نزول بھی تیز ہو گیا اور وحی جلدی جلدی نازل ہونے لگی اور یہ اس لئے کیا گیا تا سب کے سب مسلمان قرآن کریم کے مضامین کے پوری طرح حافظ ہو جائیں۔دوسری وجہ اس کی یہ تھی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا اُس وقت آپ کے ماننے والے بہت تھوڑے تھے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ قرآن کریم محفوظ رہے اور اس کے متعلق کسی قسم کا شبہ پیدا نہ ہو اس لئے شروع میں قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا۔ایسی آہستگی کے ساتھ کہ بعض دفعہ چند آیات نازل ہونے کے بعد مہینے گزر جاتے تھے اور پھر جا کر چند اور نئی آیات نازل ہوتی تھیں۔اسی طرح ان تھوڑے