انوارالعلوم (جلد 20) — Page 425
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۲۵ دیباچہ تفسیر القرآن سے آدمیوں کو پورے طور پر قرآن کریم یاد کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔چند سال میں مسلمانوں کی جماعت بڑھنی شروع ہوئی اور قرآن کریم کی حفاظت زیادہ آسان ہو گئی۔تب قرآن کریم کا نزول بھی پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے ہونے لگا۔آخری زمانہ اسلام میں تو مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی اُوپر نکل گئی۔اُس وقت قرآن کریم کا یاد کرنا بہت زیادہ آسان ہو گیا۔تب قرآن کریم اور بھی زیادہ جلدی سے اُترنے لگا۔اس الہی تدبیر سے قرآن کریم کی حفاظت اور یقینی ہوگئی۔یا د رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کے بدترین دشمنوں میں سے بھی کوئی ایسا نہیں جو حضرت کی عثمان کے زمانہ سے لے کر آج تک ساڑھے تیرہ سو سال کے متعلق شبہ رکھتا ہو کہ اس عرصہ میں قرآن کریم میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہوگی۔کیونکہ حضرت عثمان کے زمانہ میں قرآن کریم کی سات کا پیاں کر کے سات ملکوں میں بھیج دی گئی تھیں اور ہر ملک کے لوگ اُن کا پہیوں سے نقل کر کے اپنے لئے قرآن کریم کے نسخے تیار کرتے تھے اور لاکھوں آدمی قرآن کریم کو حفظ کرتے تھے۔پس جو لوگ قرآن کریم کے محفوظ ہونے کے متعلق کسی قسم کا شبہ پیدا کرتے ہیں وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر حضرت عثمان کے زمانہ تک کے متعلق اعتراض کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حصہ قرآن کا نازل ہوتا تھا آپ اُس کو حفظ کر لیتے تھے اور ہمیشہ قرآن کریم کو دُہراتے رہتے تھے اس طرح آپ ساری وحی کے کامل حافظ تھے مگر اس کے علاوہ حفاظت قرآن کے مندرجہ ذیل ذرائع اختیار کئے گئے تھے۔۔حفاظت قرآن کے ذرائع ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی وہ اُسی وقت لکھوا دی جاتی تھی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کا تبوں کو قرآن کریم لکھواتے تھے اُن میں سے مندرجہ ذیل پندرہ نام تاریخی سے ثابت ہیں :۔زید بن ثابت۔ابی بن کعب - عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح۔زبیر بن العوام۔خالد بن سعید بن العاص۔ابان بن سعید العاص - حنظلہ بن الربیع الاسدی۔معیقیب بن ابی فاطمہ۔عبداللہ بن ارقم الزہری۔شرجیل بن حسنہ۔عبداللہ بن رواحہ۔حضرت ابوبکر۔حضرت عمرؓ۔