انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 294

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۹۴ دیباچہ تفسیر القرآن جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور اللہ یقیناً اُن کی مدد پر قادر ہے۔ہاں ان مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی جاتی ہے جن کو اُن کے گھروں سے بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا۔اُن کا صرف اتنا ہی جرم تھا (اگر یہ کوئی جرم ہے ) کہ وہ یہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ تعالیٰ بعض ظالم لوگوں کو دوسرے عادل لوگوں کے ذریعہ سے ظلم روکتا نہ رہے تو گر جے اور مناسڑیاں ۳۰۳ اور عبادت گاہیں اور مسجد میں جن میں خدا تعالیٰ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے ظالموں کے ہاتھ سے تباہ ہو جائیں ( پس دنیا میں مذہب کی آزادی قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالی مظلوموں کو اور ایسی قوموں کو جن کے خلاف دشمن پہلے جنگ کا اعلان کر دیتا ہے جنگ کی اجازت دیتا ہے ) اور یقینا اللہ تعالیٰ اُن کی مدد کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ یقیناً بڑی طاقت والا اور غالب ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اگر دنیا میں طاقت پکڑ جائیں تو خدا تعالیٰ کی عبادتوں کو قائم کریں گے اور غریبوں کی خبر گیری کریں گے اور نیک اور اعلیٰ اخلاق کی دنیا کو تعلیم دیں گے اور بُری باتوں سے دنیا کو روکیں گے اور ہر جھگڑے کا انجام وہی ہوتا ہے جو خدا چاہتا ہے۔ان آیات میں جو مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دینے کے لئے نازل ہوئی ہیں بتایا گیا ہے کہ جنگ کی اجازت اسلامی تعلیم کی رو سے اُسی صورت میں ہوتی ہے، جب کوئی قوم دیر تک کسی قوم کے ظلموں کا تختہ مشق بنی رہے اور ظالم قوم اس کے خلاف بلا وجہ جنگ کا اعلان کر دے اور اس کے دین میں دخل اندازی کرے اور ایسی مظلوم قوم کا فرض ہوتا ہے کہ جب اُسے طاقت ملے تو وہ مذہبی آزادی دے اور اس بات کو ہمیشہ مدنظر رکھے کہ خدا تعالیٰ اُس کو غلبہ بخشے تو وہ تمام مذاہب کی حفاظت کرے اور اُن کی مقدس جگہوں کے ادب اور احترام کا خیال رکھے اور اس کی غلبہ کو اپنی طاقت اور شوکت کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ غریبوں کی خبر گیری ، ملک کی حالت کی درستی اور کی فساد اور شرارت کے مٹانے میں اپنی قوتیں صرف کرے۔یہ کیسی مختصر اور جامع تعلیم ہے۔اس میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو جنگ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے اور اگر اب وہ جنگ کریں گے تو وہ مجبوری کی وجہ سے ہوگی ورنہ جارحانہ جنگ اسلام میں منع ہے اور پھر کس طرح شروع میں بھی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو غلبہ ضرور ملے گا۔مگر انہیں یا درکھنا چاہئے کہ