انوارالعلوم (جلد 20) — Page 134
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۳۴ دیباچهتفسیر القرآن ہیں۔کیا مسیح پر یہ پیشگوئی چسپاں ہو سکتی ہے؟ کیا داؤد پر یہ پیشگوئیاں چسپاں ہوسکتی ہیں؟ وہ کب فاران سے ظاہر ہوئے اور کب اُن کے ساتھ دس ہزار قدوسی تھے ؟ مسیح کے ساتھ تو کل ۱۲ حواری کی تھے جن میں سے ایک نے مسیح کو چند روپے لے کر بیچ دیا اور دوسرے نے اُس پر لعنت کی۔باقی رہ گئے دس۔سو بائبل کہتی ہے کہ وہ دس بھی بھاگ گئے اگر وہ قائم بھی رہتے اور نہ بھاگتے تب ج بھی دس اور دس ہزار میں بڑا بھاری فرق ہے اور تو رات تو کہتی ہے کہ وہ اُس کے ساتھ ہوں گے اور مسیح کے دس آدمیوں کی نسبت انجیل کہتی ہے کہ وہ اُس کا ساتھ چھوڑ گئے۔اسی طرح حبقوق میں لکھا ہے ” زمین اُس کی حمد سے معمور ہوئی“۔وہ کون ہے جس کا نام محمد تھا اور جس کے دشمن اُسے گالیاں دیتے تو اُس کا نام لے کر انہیں گالیاں دینے کی جرات نہیں ہوتی تھی کیونکہ محمد یعنی تعریف والا کہہ کر وہ اُسے کیا گالی دے سکتے تھے اس لئے وہ اس کو ندم کہہ کر گالی دیتے تھے اور جب کبھی آپ کے صحابہ کو گالیاں سن کر جوش آتا تو آپ فرماتے تمہارے لئے جوش کی کوئی وجہ نہیں۔وہ مجھے تو گالیاں نہیں دیتے وہ تو کسی مذمم کو گالیاں دیتے ہیں۔پس وہ جس کے نام میں ہی حمد آتی ہے اور جس کی اُمت کی شاعری کا ایک جزو ہی نعت محمد ( یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ) ہو گیا ہے کیا اُس کے سوا کوئی اور شخص بھی اس پیشگوئی کا مستحق ہوسکتا ہے؟ پھر لکھا ہے۔مری اُس کے آگے چلی اور اُس کے قدموں پر آتشی و با روانہ ہوئی۔یہ پیشگوئی بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی صادق آتی ہے کیونکہ آپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے آپ کے دشمن کو تباہ کیا۔گو اس جگہ مری کے الفاظ ہیں جو بیماری پر دلالت کرتے ہیں مگر مراد تباہی اور ہلاکت ہی ہے کیونکہ جس ذریعہ سے بھی موت عام ہو جائے وہ مری اور وبا کہلائے گا۔پھر لکھا ہے۔” وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کو لرزہ دیا۔اُس نے نگاہ کی اور کی قوموں کو پراگندہ کر دیا۔یہ پیشگوئی بھی نہ تو موسی علیہ السلام پر صادق آ سکتی ہے نہ مسیح علیہ السلام پر۔موسیٰ علیہ السلام تو اپنے دشمن سے لڑتے ہوئے فوت ہو گئے اور مسیح علیہ السلام کو تو بقول عیسائیوں کے اُن کے دشمنوں نے پھانسی دے دیا۔جس نے زمین کو لرزہ دیا اور جس کی نگاہ نے قوموں کو