انوارالعلوم (جلد 20) — Page 133
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۳۳ دیباچہ تفسیر القرآن غرض جس نقطۂ نگاہ سے بھی دیکھیں یہ ثابت ہے کہ قریش بنو اسمعیل تھے اور فاران بائبل کے مطابق وہی علاقہ ہے جس میں بنو اسمعیل رہے۔حبقوق نبی کی پیشگوئی پس فاران سے ظاہر ہونے والا جلوہ یقیناً جلو محمدی ہی تھا جس کی خبر موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی اور اس کی خبر حبقوق نبی نے مسیح سے ۶۲۶ برس پہلے دی اور کہا: خدا تیا سے اور وہ جو قدوس ہے کوہ فاران سے آیا۔سلاہ۔اُس کی شوکت سے آسمان چھپ گیا اور زمین اُس کی حمد سے معمور ہوئی اور اُس کی جگمگاہٹ نور کی مانند تھی۔اُس کے ہاتھ سے کر نہیں نکلیں پر وہاں بھی اُس کی قدرت در پردہ تھی۔مری اُس کے آگے آگے چلی اور اُس کے قدموں پر آتشی و با روانہ ہوئی۔وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کو لرزہ دیا۔اُس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا اور قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اُس کے آگے دھنس گئیں۔اُس کی قدیم را ہیں یہی ہیں۔میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بہت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے۔۱۲۷ اس پیشگوئی میں بھی تیا اور کوہ فاران سے ایک قدوس کے ظاہر ہونے کا ذکر آتا ہے۔پس موسیٰ کی پیشگوئی اور حقوق کی پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح تک انسان اپنے ارتقاء کے آخری نقطہ کو پہنچنے والا نہ تھا بلکہ حضرت مسیح کے بعد ایک اور جلوۂ الہی ظاہر ہونے والا تھا جس کو صرف جمالی جلوہ نہیں ہونا تھا بلکہ اُس کے ساتھ ایک آتشی شریعت کا ہونا بھی لازمی تھا اور جیسا کہ ہم او پر ثابت کر چکے ہیں کہ تیما کی سرزمین اور کوہ فاران سے ظاہر ہونے والے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اُن کی آتشی شریعت قرآن کریم تھی جس نے گنا ہوں اور ان شیطانی کاروبار کو جلا کر رکھ دیا۔موسیٰ نے کہا جب وہ کو ہ فاران سے ظاہر ہو گا تو اُس کے ساتھ دس ہزار قدوسی آئیں گے۔وہ کون تھا جو کو ہ فاران سے ظاہر ہوا اور اُس کے ساتھ دس ہزار قدوسی تھے؟ وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے جو فاران کی پہاڑیوں پر سے ہوتے ہوئے جب مکہ پر حملہ آور ہوئے تو آپ کے ساتھ دس ہزار آدمی تھا جس پر ساری تاریخیں متفق