انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 70

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن لئے بھی تیار نہیں ہوسکتا۔کیا عیسائی اور یہودی دنیا خدا کے نبیوں کی نسبت ایسی باتیں سن سکتی ہے ہے؟ اگر سن سکتی ہے تو یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ ایک ایسی پاک اور منزہ کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی جو اس قسم کے ذہنوں کا علاج کرتی۔۳۔تو رات میں لکھا ہے اگر کئی بھائی ایک جا رہتے ہوں اور ایک ان میں سے بے اولا دمر جائے ، تو اُس مرحوم کی جورو کا بیاہ کسی اجنبی سے نہ کیا جائے بلکہ اس کے شوہر کا بھائی اس سے خلوت کرے اور اُسے اپنی جو رو کر لے اور بھاوج کا حق اُسے ادا کرے اور یوں ہوگا کہ اُس کا پلوٹھا جو اس سے پیدا ہو تو اس کے مرحوم بھائی کے نام پر قائم ہوگا تا کہ اس کا نام اسرائیل میں سے مٹ نہ جائے۔اگر کسی اور شخص کی اولاد کے ذریعہ سے کسی شخص کا نام قائم رہ سکتا ہے تو بھائیوں کی اولاد کے ہونے کی صورت میں کیا ضرورت ہے کہ اس کے بھائیوں کے نطفہ سے اس کی بیوی کے ہاں بھی کوئی بیٹا پیدا ہو۔اگر بھائیوں کا بیٹا اس کا بیٹا ہوسکتا ہے تو پھر اس کی بیوی سے بد کاری کروانے کا فائدہ ہی کیا ہے۔بائبل یہی کہہ دیتی کہ بھائیوں کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا مر نے والے کی طرف منسوب کر دیا جائے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہودی علماء نے حضرت لوط پر ایک گندہ الزام لگایا تھا خدا نے ایسی تعلیم ان کے ہاتھوں سے تو رات میں لکھوا دی تا کہ لوط پر جھوٹا الزام لگانے والے یہودی سارے کے سارے خود اُس گند میں مبتلا ہو جائیں جو کام اُنہوں نے حضرت لوط کی طرف منسوب کیا تھا۔یقیناً عہد نامہ قدیم کی یہ خرابیاں اس بات کی مین دلیل تھیں کہ دنیا کو اس قسم کی کامل کتاب کی ضرورت تھی جو عیبوں اور نقصوں سے پاک ہو اور وہ کتاب قرآن کریم ہے۔موجودہ انا جیل کی حالت میں اوپر بتا چکا ہوں کہ عہد نامہ قدیم ظاہری اور باطنی دونوں طور پر محرف ومبدل ہو چکا ہے اور اس کی تعلیم اور ہو اس کی روشنی سے کسی انسان کا ہدایت پانا ناممکن ہے۔اب میں عہد نامہ جدید کو لیتا ہوں۔(۱) عہد نامہ جدید کا کوئی وجود نہیں ہے جو کتابیں عہد نامہ جدید کے نام سے ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہیں، وہ ہر گز نہ مسیح کے اقوال پر مشتمل ہیں اور نہ ان کے حواریوں کے اصل