انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 594

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۹۴ احمدیت کا پیغام بی اے یا ایم اے نہیں ہوتا۔آپ کے فیضان کے یہ معنی تو نہیں ہیں کہ ہم نے کوئی بڑا کارخانہ چلا لیا ہے کیا عیسائی اور ہندو اور سکھ ایسے کارخانے نہیں چلاتے۔آپ کے فیضان کے یہ معنی تو نہیں کہ کوئی بڑی تجارتی کوٹھی ہم نے کھول لی اور دور دراز ملکوں میں ہم نے تجارتی کاروبار جاری ہے کر دیا ہے۔یہ بھی سب ہندو اور عیسائی اور یہودی کر رہے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کے یہی معنی ہیں کہ آپ کے طفیل انسان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ براہ راست تعلق قائم ہو جائے۔انسان کا دل خدا تعالیٰ کو دیکھے۔اس کی روح کا اس سے اتحاد ہو جائے۔وہ اس کا شیریں کلام سنے اور خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات اور آیات اس کے لئے ظاہر ہوں۔یہ وہی چیز ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے بغیر کسی شخص کو دنیا میں نہیں مل سکتی اور یہی وہ کی چیز ہے جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع دوسری قوموں سے ممتاز ہیں۔پس اسی کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں کو توجہ دلائی اور یہی چیز اپنے نہ ماننے والوں کے سامنے پیش کی کہ خدا تعالیٰ نے یہ کھویا ہوا موتی مجھے دیا ہے اور یہ ضائع شدہ کی متاع مجھے بخشی ہے اور یہ سب کچھ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کی اتباع ہے سے ملا ہے اور اس مقام پر آپ ہی کے فیضان نے مجھے پہنچایا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے لیکن وہ سب جزوی حیثیت رکھتے ہیں گو بہت اہم اور عظیم الشان ہیں لیکن اصل کام یہی تھا کہ آپ نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے اور مادیت پر روحانیت کو غالب کرنے کی مہم شروع کی اور یقیناً اسلام کو دوسرے ادیان پر غلبہ اسی کی رستہ سے ہوگا۔ہم تو پوں اور بندوقوں سے اپنے ملکوں کا دفاع بھی کریں گے۔ہم بعض بعض کی دشمنوں پر ان ذرائع سے غالب بھی آئیں گے لیکن ساری دنیا پر اسلام کو جو غلبہ حاصل ہوگا وہ اسی روحانی طریقہ سے حاصل ہوگا جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی ہے۔جب مسلمان مسلمان ہو جائے گا جب وہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے لگ جائے گا جب کی وہ روحانی اشیاء کو مادی اشیاء پر فوقیت دینے لگے گا تو وہ عیا شانہ زندگی جو اس وقت مغربی اقوام کی کی وجہ سے ہمارے ملک میں رائج ہو رہی ہے آپ ہی آپ مٹ جائے گی اور انسان کسی کے کہنے کی وجہ سے نہیں بلکہ خود اپنے نفس کی خواہش کے ماتحت لغویات کو چھوڑ دے گا اور سنجیدہ