انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 589

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸۹ احمدیت کا پیغام اندر ایثار اور قربانی کا مادہ پیدا کرتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم دین کو اختیار کرو۔تم نمازیں پڑھو، تم روزے رکھو، حج کرو، زکوۃ دو لیکن وہ نمازیں پڑھو جو قرآن نے بتائی ہیں اور وہ روزے رکھو جو قرآن نے بتائے ہیں اور وہ حج کرو جو قرآن نے بتایا ہے اور وہ زکوۃ دوجو قرآن نے بتائی ہے۔قرآن کریم تم سے اُٹھک بیٹھک کا مطالبہ نہیں کرتا۔نہ وہ تم سے بھوکے رہنے کا مطالبہ کرتا ہے۔نہ اپنا ملک بے فائدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرتا ہے ، نہ اپنا مال گنوانے کا مطالبہ کرتا ہے۔قرآن کریم تو نماز کے متعلق یہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَتْلَى عَنِ الْفَحْشَاءِ والمُنكَرِ، وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ، وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ۱۸ نماز تم سے فحشاء اور منکری کو ترک کروا دیتی ہے پس اگر وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو نماز کا قرآن کریم نے بتایا ہے تو تمہاری نمازی نماز نہیں ہے اور روزے کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ 19 روزہ اس لئے مقرر کیا گیا ہے تا تمہارے اندر تقویٰ اور اخلاق فاضلہ پیدا ہوں۔پس اگر تم روزے رکھتے ہواور یہ نتیجہ پیدا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ تمہاری نیت درست نہیں اور تم روزہ نہیں رکھتے بلکہ تم اپنے آپ کو بھوکا رکھتے ہو اور خدا تعالیٰ کو تمہارا بھوکا رکھنا تو مطلوب نہیں۔اور حج کی کے لیے فرماتا ہے کہ یہ بغاوت کے خیالات کو روکنے اور باہمی جھگڑوں کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔پس حج رفت اور فسق اور جدال کو روکنے کے لیے ہے۔اور زکوۃ کے لیے فرماتا ہے خُذ من أموالهمْ صَدَقَةً تُطَيِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا " زکوة تزکیہ فرد و قوم اور تطہیر قلب و افکار کے لئے مقرر کی گئی ہے۔پس جب تک یہ نتائج پیدا نہ ہوں تمہارا حج اور تمہاری زکوۃ صرف دکھاوے کے ہیں۔پس تم نماز پڑھو ، روزہ رکھو، حج کرو، زکوۃ دو مگر تمہاری نماز اور روزے اور حج کو میں تب تسلیم کروں گا جب ان کا نتیجہ نکلے۔اور تم فحشاء ومنکر سے بچو اور تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو اور رفٹ اور فسوق اور جدال سے کلی طور پر دور ہو جاؤ اور تزکیہ فرد وقوم اور تطہیر قلب و افکار تم کو حاصل ہو لیکن جس شخص کے اندر یہ نتیجہ پیدا نہیں ہوگا میں اُسے اپنی جماعت میں نہیں سمجھوں گا کیونکہ اس نے قشر کو اختیار کیا مغز کو اختیار نہیں کیا جو خدا تعالیٰ کا مقصود تھا۔اسی طرح تمام باقی عبادات کے متعلق آپ نے مغز پر زور دیا اور فرمایا کہ اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں جو حکمت کے بغیر ہو۔خدا تعالیٰ آنکھوں کو نظر نہیں آتا۔خدا تعالیٰ دل کو نظر