انوارالعلوم (جلد 20) — Page 561
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۶۱ احمدیت کا پیغام اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ احمدیت کا پیغام احمدیت کیا ہے اور کس غرض سے اس کو قائم کیا گیا ہے؟ یہ ایک سوال ہے جو بہت سے واقفوں اور ناواقفوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔واقفوں کا مطالعہ زیادہ گہرا ہوتا ہے اور ناواقفوں کے سوالات بہت سطحی ہوتے ہیں۔بوجہ عدم علم کے بہت سی باتیں وہ اپنے خیال سے ایجاد کر لیتے ہیں اور بہت سی باتوں پر لوگوں سے سن سنا کر یقین کر لیتے ہیں۔میں پہلے انہی لوگوں کی واقفیت کے لئے کچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں جو عدم علم اور نا واقفیت کی وجہ سے احمدیت کے متعلق مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ان نا واقفوں میں سے بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ احمدی کی احمدیت کوئی نیا مذ ہب نہیں لوگ کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے قائل نہیں اور احمدیت ایک نیا مذہب ہے۔یہ لوگ یا تو بعض دوسرے لوگوں کے بہکانے سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں یا ان کے دماغ یہ خیال کر کے کہ احمدیت ایک مذہب ہے اور ہر مذہب کے لئے کسی کلمہ کی ضرورت ہے سمجھ لیتے ہیں کہ احمدیوں کا بھی کوئی نیا کلمہ ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ احمدیت کوئی نیا مذہب ہے اور نہ مذہب کے لئے کسی کلمہ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر میں یہ کہتا ہوں کہ کلمہ اسلام کے سوا کسی مذہب کی علامت نہیں۔جس طرح اسلام دوسرے مذاہب سے اپنی کتاب کے لحاظ سے ممتاز ہے، اپنے نبی کے لحاظ سے ممتاز ہے، اپنی عالمگیری کے لحاظ سے ممتاز ہے، اسی طرح اسلام دوسرے مذاہب سے کلمہ کے لحاظ سے بھی ممتاز ہے، دوسرے مذاہب کے پاس کتابیں ہیں مگر کلام اللہ سوائے مسلمانوں کے کسی کو نہیں ملا۔کتاب۔