انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 562

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۶۲ احمدیت کا پیغام کے معنی صرف مضمون کے ہیں ، فرائض کے ہیں ، احکام کے ہیں لیکن کتاب کے مفہوم میں ہرگز یہ بات شامل نہیں کہ اس کے اندر بیان شدہ مضمون کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔مگر اسلامی کتاب کا نام کلام اللہ رکھا گیا یعنی اس کا ایک ایک لفظ بھی خدا تعالیٰ کا بیان کردہ ہے جس طرح اس کا مضمون خدا تعالیٰ کا بیان کردہ ہے۔حضرت موسی علیہ السلام کی کتاب کا مضمون وہی تھا جو خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا۔حضرت عیسی علیہ السلام کی وہ تعلیم جو دنیا کے سامنے وہ پیش کرتے تھے وہی تھی جو خدا تعالیٰ نے ان کو دی تھی لیکن ان لفظوں میں نہ تھی جو خدا تعالیٰ نے استعمال فرمائے تھے۔تورات، انجیل اور قرآن کو پڑھنے والا اگر اس مضمون کی طرف اس کی توجہ کو پھیر دیا جائے تو دس منٹ کے مطالعہ کے بعد ہی یہ فیصلہ کر لے گا کہ تو رات اور انجیل کے مضامین خواہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں ان کے الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور اسی طرح وہ یہ بھی فیصلہ کر لے گا کہ قرآن کریم کے مضامین بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس کے الفاظ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔یا یوں کہہ لو کہ ایک ایسا شخص جو قرآن کریم ، تو رات کی اور انجیل پر ایمان نہیں رکھتا، ان تینوں کتابوں کا چند منٹ مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا کہ تو رات اور انجیل کو پیش کرنے والے گو اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ دونوں کی کتب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں لیکن اس بات کے ہرگز مدعی نہیں کہ ان دونوں کتب کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کا بولا ہوا ہے مگر قرآن کریم کے متعلق وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گا کہ اس کا پیش کرنے والا نہ صرف اس بات کا دعویدار ہے کہ قرآن کریم کا مضمون خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بلکہ اس بات کا بھی دعویدار ہے کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اپنا نام علاوہ کتاب اللہ کے کلام اللہ بھی رکھا ہے لیکن تو رات و انجیل نے اپنا نام کلام اللہ نہیں رکھا نہ قرآن کریم نے ان کو کلام اللہ کہا ہے۔پس مسلمان ممتاز ہے دوسرے مذاہب سے اس بات میں کہ دوسرے مذاہب کی مذہبی کتابیں کتاب اللہ تو ہیں لیکن کلام اللہ نہیں لیکن مسلمانوں کی کتاب نہ صرف یہ کہ کتاب اللہ بلکہ کلام اللہ بھی ہے۔اسی طرح سب ہی مذاہب کی ابتداء انبیاء کی ذات سے ہوئی ہے لیکن کوئی مذہب بھی ایسا نہیں جس نے ایسے نبی کو پیش کیا ہو جو تمام امور دینیہ کی حکمتوں کو بیان کرنے کا مدعی ہو اور