انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 39

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۹ دیباچہ تفسیر القرآن اس آیت سے ظاہر ہے کہ میچ کی حکومت تا ابد بنی اسرائیل کے بارہ گروہوں پر ہے نہ کہ دوسری قوموں پر۔اسی طرح مسیح کہتا ہے:۔میں بنی اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔پھر اس نے ہدایت کی طالب عورت کو جو کہ اسرائیلی نہ تھی بلکہ کنعان کی رہنے والی تھی۔کہا کہ: مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کے آگے پھینک دیویں“۔۴۲ پھر وہ کہتا ہے۔غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامر یوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔بلکہ پہلے بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جاؤ“۔۴۳ یہ خیال نہ کیا جائے کہ اس جگہ پہلے“ کا لفظ ہے اور مطلب یہ ہے کہ پہلے اسرائیلی شہروں کی میں جاؤ اور پھر غیر اسرائیلی شہروں میں جانا کیونکہ اس جگہ خالی اسرائیلیوں کے شہروں میں پھرنا ہو مراد نہیں بلکہ اسرائیلیوں کو مسیحی بنانا مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب تک اسرائیلی مسیحی نہ : جائیں کسی اور قوم کی طرف توجہ نہ کرنا اور خود مسیح نے واضح کر دیا ہے کہ یہ کام مسیح ثانی کی آمد تک پورا نہ ہو گا۔چنانچہ اس باب کی آیت ۲۳ میں لکھا ہے :۔” جب وے تمہیں ایک شہر میں ستاویں تو دوسرے میں بھاگ جاؤ۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم اسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر چکو گے جب تک کہ ابن آدم نہ آئے گا، ۴۴ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے شہروں میں پھر جانا مراد نہیں کیونکہ یہ کام تو چند مہینوں میں ہو سکتا تھا بلکہ اس سے مراد بنی اسرائیل کا مسیحیت میں داخل کی ہونا ہے اور مسیح فرماتے ہیں کہ اُن کی آمد ثانی تک یہ کام پورا نہیں ہو گا۔پس مسیح کی آمد ثانی کی تک غیر قوموں کو مخاطب کرنے میں مسیحی لوگ حق بجانب نہیں بلکہ مسیح کی تعلیم کے خلاف چلنے والے ہیں۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری بھی غیر اقوام میں اناجیل کی منادی