انوارالعلوم (جلد 20) — Page 355
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۵۵ دیباچهتفسیر القرآن ۳۷۳۔صرف اُنہی کی زبان سے حالات سن کر لگایا جاسکتا ہے۔وہی صحابی جن کا میں نے اُوپر ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم اونٹوں اور گھوڑوں کو واپس لانے کی کشمکش میں تھے کہ عباس کی آوازی ہمارے کانوں میں پڑی۔اُس وقت ہمیں یوں معلوم ہوا کہ ہم اس دنیا میں نہیں بلکہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہیں اور اُس کے فرشتے ہم کو حساب دینے کے لئے بلا رہے ہیں۔تب ہم میں سے بعض نے اپنی تلوار میں اور ڈھالیں اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور اونٹوں سے کود پڑے اور ڈرے ہوئے اونٹوں کو انہوں نے خالی چھوڑ دیا کہ وہ جدھر چاہیں چلے جائیں اور بعض نے اپنی تلواروں سے اپنے اونٹوں کی گردنیں کاٹ دیں اور خود پیدل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔۳ وہ صحابی کہتے ہیں اُس دن انصار اس طرح دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جار ہے تھے کہ جس طرح اونٹنیاں اور گائیں اپنے بچے کے چیخنے کی آواز کوسُن کر اس کی طرف دوڑ پڑتی ہیں اور تھوڑی دیر میں صحابہ اور خصوصاً انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے اور دشمن کو شکست ہوگئی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا یہ نشان ہے کہ وہ شخص جو چند ہی دن پہلے آپ کی جان کا دشمن تھا اور آپ کے مقابلہ پر کفار کے لشکروں کی کمان کیا کرتا تھا یعنی ابوسفیان وہ آج حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔جب کفار کے اونٹ پیچھے کی طرف دوڑے تو ابوسفیان جو نہایت ہی زیرک اور ہوشیار آدمی تھا اُس نے یہ سمجھ کر کہ میرا گھوڑا بھی پدک جائے گا فوراً اپنے گھوڑے سے کودا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی رکاب پکڑے ہوئے پیدل آپ کے ساتھ چل پڑا۔ابوسفیان کا بیان ہے کہ اُس وقت کچھی ہوئی تلوار میرے ی ہاتھ میں تھی اور مجھے اللہ ہی کی قسم ہے جو دلوں کے راز جانتا ہے کہ میں اُس وقت عزم صمیم کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کے ساتھ پہلو میں کھڑا تھا کہ کوئی شخص مجھے مارے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں پہنچ سکتا تھا۔اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حیرت کے ساتھ دیکھ رہے تھے ( شاید آپ سوچ رہے تھے کہ آج سے صرف دس پندرہ دن پہلے یہ شخص میرے قتل کے لئے اپنی فوج کو لے کر مکہ سے نکلنے والا تھا لیکن چند ہی دنوں میں خدا تعالیٰ ہے