انوارالعلوم (جلد 20) — Page 5
انوار العلوم جلد ۲۰ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہ محنت اور مزید جد و جہد نہیں کرتا۔اس لئے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا اور ان اعلیٰ کی ترقیات سے محروم ہو جاتا ہے جن کا حصول اس کے لئے ممکن تھا۔مگر ان خطرات کے درمیان بہر حال ایک تیسرا راستہ بھی ہے اور وہ یہ کہ انسان اچھے کام کی تعریف کرے اور بُرے کی مذمت کرے۔بعض غلطیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ تھوڑی سی کوشش سے درست ہو جاتی ہیں اور اگر انہیں نظر انداز کیا جائے تو قومی ترقی رک جاتی ہے۔کوئٹہ میں میں پہلی دفعہ آیا ہوں۔اگرچہ یہاں کے خدام میں سے بعض نے قادیان میں تعلیم پائی ہے اور بعض کے ماں باپ بھی وہاں رہتے تھے مگر پھر بھی ان کے کاموں پر مجھے تنقید کا اس طرح موقع نہیں ملا جیسے آج ملا ہے۔میں جب سے یہاں آیا ہوں میں محسوس کرتا ہوں کہ یہاں کے خدام علمی حصے کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔مثلاً جس خادم نے تلاوت کی ہے اُس نے اس امر کوملحوظ نہیں رکھا کہ قرآن مجید صحیح طور پر پڑھا جائے۔اگر وہ تھوڑی سی اس امر کی کوشش کرتے تو بڑی آسانی کے ساتھ صحیح طور پر تلاوت کر سکتے تھے۔میں نے دیکھا کہ انہوں نے بالعموم الف کو فتح کے ساتھ ادا کیا ہے۔ان کی تلاوت میں ۵۰ یا ۶۰ فیصدی الف تھے جو انہوں نے فتح کے ساتھ ادا کئے ہیں۔حالانکہ الف اور فتح الگ الگ چیزیں ہیں اور ان دونوں میں بہت فرق ہے۔اسی طرح انہوں نے مدات کو بالعموم گرا دیا ہے۔یعنی جہاں دوالف تھے وہاں انہوں نے ایک ہی الف پڑھا ہے اسی طرح اور باتیں بھی تھیں جنکی وجہ سے تلاوت ناقص ہوگئی۔میں اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی شخص اس بات میں لگار ہے کہ قاری کی طرح وہ قراءت کر سکے لیکن جو کام آسانی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے اسے کیوں چھوڑا جائے۔یہ کوشش کرنا کہ ہم قاری کی طرح ہی ادا کریں درست نہیں کیونکہ اس کی طاقت ہمیں خدا نے نہیں بخشی۔میری کی مرحومہ بیوی اُمّم طاہر بیان کیا کرتی تھیں کہ ان کے والد صاحب کو قرآن مجید کے پڑھنے پڑھانے کا بڑا شوق تھا۔انہوں نے اپنے لڑکوں کو قرآن پڑھانے کے لئے استاد ر کھے ہوئے تھے اور لڑکی کو بھی قرآن پڑھنے کے لئے ان کے سپرد کیا ہوا تھا۔اُم طاہر بتا یا کرتی تھیں کہ وہ استاد بہت مارا کرتے تھے اور ہماری انگلیوں میں شاخیں ڈال ڈال کر ان کو دباتے تھے مارتے