انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 4

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک تو کہا استاد جی! بس رہنے دیجئے۔میں نے دیکھ لیا ہے کہ آپ بلا وجہ مجھ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔یہ میرے ہی شعر تھے جو میں پرانے کاغذوں پر لکھ کر لے آیا ہوں اور میں نے یونہی آزمانے کے لئے یہ کہہ دیا تھا کہ یہ پرانی نظمیں ہیں۔وہ لکھتا ہے کہ جب میں نے یہ بات کہی تو میرے استاد کا چہرہ افسردہ ہو گیا اور اس نے کہا میں تو سمجھتا تھا کہ میں اپنے پیچھے ایک ایسا کی شاگر دچھوڑ جاؤں گا جس کا فارسی زبان میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا مگر آج تم نے یہ جرات کی ہے تو اس کی وجہ سے اب تمہاری تمام ترقی ختم ہو گئی ہے۔میں دشمنی کی وجہ سے تم پر تنقید نہیں کیا کرتا تھا بلکہ اس لئے تنقید کرتا تھا کہ تائم زیادہ سے زیادہ کوشش کرو اور تمہارے مخفی جو ہر زیادہ ہی سے زیادہ ظاہر ہوں۔اگر میں کہہ دیتا کہ تم اچھے شاعر بن گئے ہو تو تم مزید محنت نہ کرتے یہ جرح ہی کا نتیجہ ہے کہ تم نے خوب زور لگایا اور محنت سے کام لیا اور اب تم صاحب کمال بن گئے ہولیکن اب تمہاری ترقی ختم ہو گئی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ واقعہ یہی ہے کہ میں نے پھر اس سے زیادہ ترقی نہیں کی۔پس تنقید کئی وجوہ سے ہوتی ہے۔کبھی کام کرنے والے کی تعریف کی جاتی ہے کہ کم حوصلہ انسان ست نہ ہو جائے اور ہمت نہ ہار بیٹھے اور کبھی سخت تنقید کی جاتی ہے تا با حوصلہ آدمی زیادہ کی سے زیادہ اپنے دماغ پر زور ڈال کر اپنے مخفی جو ہر کو باہر نکالنے کی کوشش کرے۔یہ کام بہت ہی مشکل ہے۔فطرت کا سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔جیسے اس استاد نے غلطی کی اور اتنی سخت تنقید کی کہ جس سے شاگرد مایوس ہو گیا اور آخر اس نے دھوکا دیا جس کی وجہ سے وہ آئندہ ترقی حاصل نہ کر سکا۔پس کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان غلط اندازہ لگاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ فلاں آدمی بہت بلند حوصلہ ہے۔اس پر جتنی بھی تنقید کی جائے اتنی ہی وہ محنت کرے گا اور اس کے مخفی جو ہر ظاہر ہوں گے لیکن اس کا نتیجہ اُلٹ نکلتا ہے وہ کم حوصلہ اور کم ہمت ہوتا ہے اور اس تنقید کی وجہ سے وہ چی مایوس ہو جاتا ہے اور آئندہ ترقیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔پھر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ یہ کم حوصلہ اور کم ہمت ہے اس کی ہمت و حوصلہ بڑھانے کے لئے وہ اس کی تعریف شروع کر دیتا ہے لیکن وہ کم حوصلہ نہیں ہوتا اگر وہ اس پر تنقید کرتا تو اس کے مخفی جو ہر ظاہر ہوتے لیکن استاد نے اس کا اندازہ غلط لگایا اور کم حوصلہ سمجھ کر تعریف کر دی۔اس تعریف کی وجہ سے وہ