انوارالعلوم (جلد 20) — Page 3
انوار العلوم جلد ۲۰ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک رہو فرموده ۷ اگست ۱۹۴۸ ء بمقام کوئٹہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اچھا کام تعریف کے قابل ہوتا ہے اور بُرا کام مذمت کے قابل ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی استاد اپنے شاگردوں کا دل بڑھانے کیلئے ان کے تھوڑے اور نامکمل کام کو بھی قابلِ تعریف ظاہر کرتا ہے اور کبھی وہ ان کے اندر نیا عزم پیدا کرنے کیلئے ان کے اچھے کاموں کو بھی قابلِ اعتراض اور قابل تنقید قرار دیتا ہے۔جس کی وجہ سے شاگرد اپنے کاموں کی طرف زیادہ توجہ کرنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔عرفی یا انوری ان دونوں میں سے کسی ایک کے متعلق مجھے ایک واقعہ یاد ہے۔وہ ذکر کرتا ہے کہ میں شعر کہا کرتا تھا اور اصلاح کے لئے استاد کے پاس لے جایا کرتا تھا مگر وہ بڑی سختی کے ساتھ ان پر تنقید کیا کرتا تھا۔اتنی سخت تنقید کہ وہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔وہ کہتا ہے کہ مجھے اپنے متعلق احساس پیدا ہو گیا تھا کہ میں بڑا اچھا ادیب بن گیا ہوں لیکن میں نے متواتر دیکھا کہ میرا استاد برابر جرح کرتا چلا جاتا تھا۔میں نے یہ خیال کر کے کہ یہ جرح نامناسب ہے اور تعصب پر مبنی ہے ایک دفعہ شرارت کر کے پرانی کا پہیوں سے کچھ کا غذا کھیڑے اور ان کی جلد بنالی اور خط بدل کر کسی سے چند نظمیں ان پر نقل کرالیں اور اپنے استاد کے پاس لے گیا۔میں نے کہا مجھے اپنے والد صاحب کی لائبریری میں سے پرانے شاعروں کے کلام کے یہ اجزاء ملے ہیں۔انہوں نے وہ نظمیں پڑھنی شروع کی ہی تھیں کہ بے تحاشہ تعریف کرنی شروع کر دی کہ یہ بڑا اعلیٰ درجہ کا کلام ہے اس نے بہت ہی عمدہ کہا ہے۔وہ کہتا ہے جب میں نے یہ تعریفیں سنیں