انوارالعلوم (جلد 20) — Page 132
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۳۲ دیباچہ تفسیر القرآن اور ا یک کا نام یا مین تھا۔بعض جغرافیہ نویس کہتے ہیں کہ دوسرے قبیلے کا نام یا مین نہیں تھ بلکہ رعویل تھا۔ان جغرافیائی اور تاریخی شواہد سے صاف ثابت ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی تمام اولا د عرب میں بستی تھی۔یہ تمام اولاد چونکہ خانہ کعبہ اور مکہ کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کرتی چلی آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام مکہ میں ہی آکر بسے تھے اور اس وجہ سے یہی علاقہ عربوں اور تورات کے بیان کے مطابق فاران کا علاقہ - ہے۔یسعیاہ نبی کی پیشگوئی عرب کے متعلق بیسعیاہ نی کے البانی کلام کی شہادت بھی اس بات کی تائید میں ہے کہ بنو اسمعیل عرب میں رہے۔چنانچہ یسعیاہ باب ۲۱ میں لکھا ہے : وو عرب کی بابت الہامی کلام۔عرب کے صحرا میں تم رات کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کر پیاسے کا استقبال کرنے آؤ۔اے تیما کی سرزمین کے باشند و! روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ہنوز ایک برس مزدور کے سے ایک ٹھیک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیراندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا۔۱۳۲۶ اس پیشگوئی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے ایک سال بعد جو جنگ بدر ہوئی تھی اُس کا ذکر کیا گیا ہے۔اس سے بنو قیدار یعنی مکہ اور مکہ کے اردگر درہنے والے لوگ بہت بُری طرح مسلمانوں سے ہارے اور اُن کی تلواروں اور کمانوں کی تاب نہ لا کر نہایت ذلت سے پسپا ہوئے۔اس پیشگوئی کے اوپر صاف لکھا ہے ”عرب کی بابت الہامی کلام “ اور اس میں تیما اور قیدار کو عرب کا علاقہ قرار دیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے الہام کے مطابق ۱۴ ۷ برس قبل مسیح جو یسعیاہ کا زمانہ تھا اُس وقت حجاز میں اسمعیل کی اولا دبس رہی تھی۔