انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 88

انوار العلوم جلد ۲۰ ۸۸ مسیح اس خیال سے کہ پیغمبر کی عزت اپنے وطن میں نہیں ہوتی اُسے چھوڑ کر جلیل چلے گئے جہاں کے لوگوں نے اُن کی بہت قدر کی۔لیکن اس کے خلاف متنی باب ۱۳ آیت ۵۴ تا ۵۸ ، لوقا باب ۴ آیت ۲۴ اور مرقس باب ۶ آیت ۴ میں لکھا ہے کہ مسیح کا وطن یہود یہ نہیں تھا بلکہ جلیل تھا۔جب جلیل میں ان کی قدر نہ ہوئی تو اُنہوں نے کہا کہ کسی نبی کی قدر اُس کے وطن میں نہیں ہوتی۔- یوحنا باب ۳ آیت ۲۲ تا ۲۶ اور یوحنا باب ۴ آیت ۱ تا ۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے یوحنا کی قید سے پہلے ہی اپنی تعلیم بیان کرنی شروع کر دی تھی اور بپتسمہ دینا بھی شروع کر دیا کی تھا۔لیکن متی باب ۴ آیت ۱۲ تا ۱۷ مرقس باب ۱ آیت ۱۴ - ۱۵ ہمتی باب ۲۸ آیت ۱۹ اور مرقس باب ۱۶ آیت ۱۵ - ۱۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے اپنی تعلیم کی تبلیغ تو یوحنا کے قید ہونے کے بعد شروع کی اور بپتسمہ کا حکم اپنے مرنے سے جی اُٹھنے کے بعد دیا۔جیسا کہ لکھا ہے:۔پھر وے گیارہ شاگر د جلیل کے اُس پہاڑ کو جہاں یسوع نے اُنہیں فرمایا تھا گئے اور اُسے دیکھ کر انہوں نے اُس کو سجدہ کیا۔پھر بعضے دیدہ ۵۴ میں رہے اور یسوع نے پاس آکر اُن سے کہا کہ آسمان اور زمین کا سارا اختیار مجھے دیا گیا اس لئے تم جا کر سب قوموں کو شاگر د کرو اور انہیں باپ اور بیٹے اور روح قدس کے نام سے وو بپتسمہ دو۔۔یوحنا باب ۱۳ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح نے آخری کھانا عید سے ایک روز پہلے کھایا اور عید کے روز وفات پائی۔لیکن متی باب ۲۶ آیت ۱۷ - مرقس باب ۱۴ آیت ۱۲ تا ۱۶ - لوقا باب ۲۲ آیت ۷ تا ۱۳ متی باب ۲۷ آیت ۱۵ تا ۳۱ مرقس باب ۱۲ /۱۴ اور باب ۱۵ آیت ۶ تا ۳۱۔۲۰ لوقا باب ۲۳ آیت ۱۳ تا ۲۵ اور باب ۲۲ آیت ۱۳ تا ۲۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے ی آخری کھا نا عید کی شام کو کھایا تھا اور عید سے دوسرے دن صلیب پائی۔یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۵ تا ۳۱ اور باب ۱۶ آیت ۱ تا ا ا سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے بعد کی فارقلیط یا روح القدس آئیں گے۔اس کے دوبارہ زندہ ہو کر واپس آنے کا کہیں صاف طور پر ذکر نہیں۔لیکن متی باب ۱۷ آیت ۲۳ اور مرقس باب ۹ آیت ۳۱ سے معلوم ہوتا ہے