انوارالعلوم (جلد 20) — Page 89
انوار العلوم جلد ۲۰ ۸۹ دیباچهتفسیر القرآن کہ مسیح تو دوبارہ زندہ ہو کر آئے گا لیکن فارقلیط کے دوبارہ آنے کا کوئی ذکر نہیں۔۔یوحنا کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے حواریوں میں سے یوحنا اُس کا سب سے بڑا اور پیارا حواری تھا اس لئے اُس کا نام مسیح کا پیارا ہو گیا تھا۔دیکھو یوحنا باب ۱۳ آیت ۲۳۔اور باب ۱۸ آیت ۱۵۔اور باب ۱۹ آیت ۲۶ ، ۲۷۔لیکن دوسری انجیلوں سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح کا سب سے پیارا حواری پطرس تھا اور تین شاگرد خاص تھے۔پطرس۔یوحنا۔یعقوب۔تعجب ہے کہ یوحنا کی انجیل میں یعقوب کا تو ذکر ہی نہیں کیا گیا اور پطرس اور یوحنا میں سے یوحنا کو زیادہ مقرب قرار دیا گیا ہے حالانکہ دوسری انا جیل پطرس کو زیادہ مقرب قرار دیتی ہیں۔دیکھو متی باب ۱۷ آیت ۱۔باب ۲۶ آیت ۳۷۔مرقس باب ۵ آیت ۳۷۔باب ۹ آیت ۲ - باب ۱۳ آیت ۳۔باب ۱۴ آیت ۳۳- لوقا باب ۹ آیت ۲۸ - باب ۲۲ آیت ۳۲۔۱۰ لوقا ( باب ۳ آیت ۳۳) نے یوسف کو ہیلی کا بیٹا بتایا ہے اور منتی (بابا آیت ۱۶) نے یوسف کو یعقوب کا بیٹا بتایا ہے۔۔لوقا ( باب ۲ آیت ۴) نے مسیح کو داؤد کی اولاد ناتھن سے لکھا ہے اور متی نے ناتھن کے بھائی سلیمان بادشاہ کی نسل سے اُسے قرار دیا ہے۔۸۵ ۱۲۔متی کے نسب نامہ میں یوسف سے ابراہیم تک ۴۱ اشخاص کے نام ہیں اور لوقا کے نسب نامہ میں ۵۶۔اور پھر ہر دوشجرہ نسب کے ناموں میں کئی جگہ اختلاف پایا جاتا ہے۔۱۳۔لوقا کا خود اپنا کلام بھی مختلف معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ وہ اپنی انجیل کے باب ۲۴ آیت ۵۰ ۵۱ میں لکھتے ہیں کہ:۔" مسیح اپنے شاگردوں کے سامنے بیت عنیا میں آسمان پر چلے گئے۔لیکن یہی لوقا اپنی تصنیف اعمال میں لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ زیتون کے پہاڑ پر ہوا تھا۔۱۴۔لوقا اپنی انجیل کے باب ۲۴ آیت ۲۱، ۳۶،۲۹ اور ا ۵ میں لکھتے ہیں کہ جس روز مسیح جی اُٹھے تھے اُسی دن یا پہلی رات جو آئی تھی اُس میں آسمان پر چلے گئے۔لیکن یہی لوقا اعمال باب ۱ آیت ٣ میں لکھتے ہیں کہ وہ جی اٹھنے کے چالیس دن بعد آسمان پر چلے گئے تھے۔