انوارالعلوم (جلد 20) — Page 49
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۹ دیباچہ تفسیر القرآن بائبل انسانی دست برد سے محفوظ نہیں ہے جب اس نقطہ نگاہ سے ہم پہلی کتب کو دیکھتے ہیں تو وہ قطعی کی طور پر ہمارے لئے تسلی کا موجب ثابت نہیں ہوتیں۔عہد نامہ قدیم کے ماننے والے اس کو خدا تعالیٰ کی کتاب کہتے ہیں مسیحی بھی اسے خدائی کتاب قرار دیتے ہیں اور مسلمان بھی اسے خدا ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب قرار دیتے ہیں لیکن خدا کی طرف سے نازل ہونا اور بات ہے اور اُسی صورت میں آج تک موجود ہونا اور بات۔اور ان دونوں باتوں میں بڑا بھاری فرق ہے۔بیشک مذکورہ بالا تینوں تو میں اس بات پر متفق ہیں کہ عہد قدیم کے انبیاء سے خدا بولتا تھا لیکن عقیدہ یہ تینوں تو میں اس بات پر متفق نہیں کہ موجوہ عہد نامہ قدیم وہی کلام ہے جو ان۔انبیاء پر نازل ہوا تھا اور نہ بیرونی اور نہ اندرونی شہادت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ موجودہ کی عہد نامہ قدیم وہی کلام ہے جو بنی اسرائیل کے انبیاء پر نازل ہوا تھا۔اسرائیلی تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ نبو کد نضر کے زمانہ میں اسرائیلی صحف جلا دیئے گئے تھے اور برباد کر دیئے گئے تھے اور دوبارہ انہیں عزرا نبی نے لکھا۔چنانچہ عزرا کی نسبت یہودی کتب میں لکھا ہے:۔دو شریعت بھلا دی گئی تھی مگر عز را نے پھر اسے دوبارہ قائم کیا۔``It was forgotten but Ezra restored it پھر لکھا ہے۔عزرا نے تو رات کو دوبارہ زندہ کیا اور اس میں اشورین حروف داخل کئے۔“Ezra established the text of pentateuch, introducing therein the Assyian of square characters۔اسی طرح لکھا ہے :۔اس نے تورات کے دوبارہ لکھنے کے وقت مسودے کے بعض لفظوں کی صحت کے متعلق کی شبہ ظاہر کیا اور ان پر نشان لگا دیئے اور کہا کہ اگر ایلیا نبی اِس عبارت کی تصدیق کرے تو یہ نشان غلط قرار دیئے جائیں اور اگر ان مشکوک سمجھی ہوئی عبارتوں کو مشکوک قرار دے تو جن الفاظ پر نشان لگا دیئے گئے ہیں انہیں آئندہ بائبل سے نکال دیا جائے۔"He showed his doubts concerning the correctness