انوارالعلوم (جلد 20) — Page 48
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۸ دیباچہ تفسیر القرآن تھے کہ تہذیب و تمدن بھی اُسی طرح مسئلہ ارتقاء کے ماتحت ہیں جس طرح انسانی جسم۔اور ضرور ہے کہ دنیا ایک دن اسی طرح تمدن اور تہذیب کا آخری ارتقائی مقام دیکھے جس طرح انسانی جسم کی پیدائش نے ارتقاء کا آخری مقام دیکھا۔اور یہ حقیقت اسلام سے پہلے مذاہب کی موجودگی میں بھی ایک اور مذہب کی ضرورت کو تسلیم کرواتی ہے اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کا قرآن کریم مدعی ہے۔تیسرا سوال جس کا مثبت میں جواب ملنے سے قرآن کریم تیسرے سوال کا جواب کی ضرورت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے یہ ہے کہ کیا پہلی کتب میں کوئی ایسا نقص تو نہیں آ گیا تھا جس کی وجہ سے ایک نئی کتاب کی ضرورت شدید طور پر دنیا کو محسوس ہو رہی تھی اور قرآن کریم اس ضرورت کو پورا کرنے والا تھا ؟ سب سے پہلی چیز جو کسی کتاب کو صحیح معنوں میں مفید بنا سکتی ہے اور جس کی بناء پر اُس سے اچھے نتائج کی امید کی جاسکتی ہے وہ اُس کا بیرونی دست برد سے محفوظ ہونا ہے۔الہی کتابوں کو انسانی کتابوں پر یہی فوقیت حاصل ہوتی ہے کہ اگر ہم کسی کتاب کو الہی کتاب تسلیم کر لیتے ہیں تو کی ہمیں اس بات کی بھی تسلی ہو جاتی ہے کہ اس کتاب کے ذریعہ سے ہم کسی قسم کی غلطی میں نہیں پڑیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان اسی بات پر مشتمل ہے کہ وہ ایسی ہستی ہے جو نور ہی نور ہے اور اس میں ظلمت بالکل نہیں ، ہدایت ہی ہدایت ہے اور اس میں گمراہی بالکل نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان اس یقین پر مشتمل نہ ہو تو پھر اس کی کوئی قیمت ہی باقی نہیں رہتی۔اگر الہی کلام بھی غلطیوں سے پڑ ہو سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ انسان اپنی راہنمائی کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کو قبول کرے۔پس الہی کتاب پر ایمان کی بنیاد اس یقین پر ہے کہ وہ غلطیوں سے پاک ہے۔لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک کتاب الہی تو ہو لیکن بعد میں انسانی دست بُرد نے اُسے کو خراب کر دیا ہو۔اگر کسی الہی کتاب کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ اس کے اندر انسانوں نے کی بھی کچھ اپنی طرف سے ملا دیا ہے تو پھر وہ کتاب انسانی ہدایت کے لئے بیکار ہو جائے گی اور اس کی کو پڑھنے والوں کے دلوں میں اس پر عمل کرنے کے لئے کبھی بھی وہ جوش پیدا نہ ہوگا جو جوش ایسے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے جو اس کتاب کو کلی طور پر شروع سے آخر تک خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں اور سمجھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔