انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 476

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن تمام کی تمام مخلوقات کی نگرانی اور ذمہ واری اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی ہے اُس کے ساتھ تعلق قائم رکھ کر ہی انسان تباہیوں اور بربادیوں سے بچ سکتا ہے اور اُس سے دور رہ کر اُسے کبھی امن حاصل نہیں ہو سکتا۔اس ہستی کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ تمام موجودات کا کی تفصیلی علم رکھتا ہے۔کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے علم سے باہر ہو۔فرماتا ہے دسم كرسيه السّماتِ وَالْاَرْضَ ۵۷۰ اُس کا علم آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے۔اسی طرح فرماتا ہے وَمَا تَكُونُ في شَأْنٍ وَ مَا تَتْلُوا مِنْهُ مِن قَرْآنِ وَلَا تَعْمَلُونَ مِن عَمَلٍ إِلَّا كُنّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفيضُونَ فِيهِ، وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَيْكَ مِن مِثْقَالِ ذرة في الأرض ولا في السَّمَاء وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا اكبر الا في كتب مُّبِين ۵۷۱ یعنی تو کسی حالت میں نہیں ہوتا اور تو کچھ نہیں پڑھ رہا ہوتا کوئی عمل نہیں کر رہا ہوتا مگر ہم تمام حالتوں میں تجھ پر نگران ہوتے ہیں جبکہ تو اُن کا موں میں مشغول ہوتا ہے اور تیرے رب سے ایک چھوٹے سے چھوٹے ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی۔مگر خدا تعالیٰ کی کتاب میں جوان اعمال پر روشنی ڈالتی رہتی ہے لکھی ہوئی ہوتی ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دل کی حالتیں، زبان کی کہی ہوئی باتیں اور اعضاء کے کئے ہوئے عمل تمام کے تمام خدا تعالیٰ پر روشن ہیں اور بے جان چیزیں بھی خواہ وہ ایک ایٹم ہوں یا ایٹم کا بھی چھوٹا سا حصہ خدا تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اس کی نظر باریک سے باریک چیز پر پڑتی ہے اور بڑی سے بڑی چیز کا بھی احاطہ کر رہی ہے اور اس کو ان چیزوں کا صرف علم ہی نہیں بلکہ وہ ہر چیز کے اعمال کو ایسے طور پر محفوظ رکھ رہا ہے کہ بعد میں اس کا کی نتیجہ نکلے گا۔اس کے لئے قرآن کریم نے کتب مبین کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی دنیا کے ریکارڈ تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نگاہ سے مخفی رہتے ہیں اور بعض دفعہ خود ریکارڈ کیپرز آنکھوں سے بھی مخفی ہو جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا طریق رکھا ہوا ہے کہ وہ ریکارڈ آپ ہی آپ بولتا چلا جاتا ہے یعنی ہر فعل کا نتیجہ خدا تعالیٰ کے قانون اور اس کے منشاء کے مطابق نکل آتا ہے پھر فرماتا ہے لا تدركه الأبصارُ ۵۷۲ خدا تعالیٰ کی ذات ایسی وراء الوراء ہے کہ اس کی حقیقت کو کوئی پانہیں سکتا۔یعنی وہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے تمام دنیا کی اشیاء سے