انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 475

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۷۵ دیباچہ تفسیر القرآن بھی ہے وہ سب اسی کا پیدا کیا ہوا ہے فرماتا ہے بديعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ، أَن يَكُونُ له ولد ولم تكن لَهُ صَاحِبَةً ، وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيم ۵۶۸ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا خدا ہی ہے اس کے بیٹا ہو کس طرح سکتا ہے جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ذلِكُمُ اللَّهُ رَبَّكُمْ : لالَة إِلَّا هُود خَالِقُ كُلّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْءٍ أَركيل ۵۶۹ یہ ہے اللہ تمہیں ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جانے والا۔اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے پس اُس کی عبادت کرو اور ہر چیز کا انتظام اسی کے قبضہ میں ہے۔ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ زمین اور آسمان کی پیدائش کا موجب اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر اُسے کسی بیٹے کی ضرورت کیا تھی کیونکہ بیٹے کا وجود یا تو اتفاقی حادثہ کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے یا ضرورت کیلئے۔اتفاقی حادثہ اس طرح ہوتا ہے کہ نر مادہ سے ملتے ہیں اور طبعی طور پر اس کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہو جاتی ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تو کوئی بیوی نہیں بیٹا تی کہاں سے آجائے گا اور اگر کہو کہ خدا تعالیٰ نے ایک نیا وجود بنایا اور اس کو بیٹے کا مقام دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیٹے کی غرض تو یہی ہوا کرتی ہے کہ انسان کے کاموں میں مدد دے اور اس کے بعد اس کے نام کو قائم رکھے مگر وہ خدا جو ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے کیا وہ بھی اسی قسم کی احتیاج رکھتا ہے پھر وہ بیٹا بنا تا ہی کیوں۔وَهُوَ بِكُلّ شيء عليهم پھر فرماتا ہے وہ ہر چیز کو جانتا ہے یعنی بعض دفعہ انسان احتیاطاً ایک سامان پیدا کر لیتا ہے کہ نہ معلوم آئندہ کیا ہو جائے لیکن خدا تعالیٰ کیلئے تو یہ خوف بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔وہ ان تمام باتوں کو جانتا ہے ہے جو گزشتہ زمانہ میں ہو چکیں اور ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو آئندہ زمانوں میں ہونے والی ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کو کسی احتیاط کی ضرورت نہیں۔پھر فرماتا ہے یہ وہ خدا ہے جس نے تم کو ادنی کی حالت سے پیدا کر کے اعلیٰ درجہ کی ترقی تک پہنچایا اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں تمام موجودات کو ی پیدا کرنے والا وہی ہے۔ایرانی اور اسرائیلی اور عرب اور ہندو ہونا خدا تعالیٰ کی نظر میں کوئی امتیازی چیز نہیں اُس کے لیے یہ سب برابر ہیں۔اُسی نے ان سب کو پیدا کیا اور اُسی نے ان سب کو آہستہ آہستہ ترقی بخشی۔پس ان سب کیلئے ضروری ہے کہ اس واحد خدا کی پرستش کریں اور یا درکھیں کہ