انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 440

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۴۰ دیباچ تفسیر القرآن چھوٹی سے چھوٹی چیز اُن کو بتانی ضروری تھی تا کہ اسلامی تعلیم پس پردہ اُن کے دماغوں میں قائم ہو جائے۔اس کے بعد پھر اسلامی شریعت کی تفصیلات بیان ہوسکتی تھیں۔پس پہلے چھوٹی چھوٹی سورتیں ایسے مضامین کے متعلق نازل کی گئیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ابتدائی زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں جن میں اول تو چند اصولی باتیں بیان کی گئی تھیں کہ خدا ایک ہے، غریبوں سے رحم کا سلوک کرنا چاہئے ، خدا تعالیٰ کی عبادت میں اپنی زندگی بسر کرنی چاہئے ، خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہئے اور ساتھ ہی یہ باتیں بھی بتائی گئی تھیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس کس رنگ میں مخالفت ہوگی ، مخالفوں کا کیا انجام ہوگا ، مؤمنوں کے ساتھ کیا سلوک ہوگا کس طرح اسلام ترقی کرے گا۔مگر جوں جوں اسلام بڑھتا چلا گیا اور مسلمانوں کو ترقیات حاصل ہونی شروع ہوئیں تفصیلات شریعت بھی نازل ہونے لگیں۔پس یہ نزول کی ترتیب اُس زمانہ کے لحاظ سے نہایت ضروری تھی۔مگر جب قرآن شریف سارا نازل ہو گیا۔لاکھوں آدمی دنیا میں مسلمان ہو گیا اور غیر قو میں بھی اسلام کے پس پردہ سے ایک حد تک واقف ہو گئیں تو اب اُن کے سامنے مسائل کو ایک نئے رنگ اور نئے زاویہ سے پیش کرنا ضروری تھا۔پس اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی ترتیب سے قرآن شریف کو آئندہ زمانہ کیلئے مرتب کر دیا۔یہ قرآن کریم کا عظیم الشان معجزہ ہے کہ نزول کے زمانہ کے لحاظ سے نزول قرآن والی ترتیب بالکل مناسب حال تھی اور اسلام کے پھیل جانے اور قرآن کریم کے مکمل ہو جانے کے بعد آئندہ زمانہ کیلئے اُس کی وہی ترتیب مناسب حال تھی جو اس وقت پائی جاتی ہے۔ایک کتاب جو مختلف ٹکڑوں میں نازل ہوئی، مختلف زمانوں میں نازل ہوئی اس کو دو تر تیبوں سے دنیا کی کے سامنے پیش کرنا اور ایسی صورت میں پیش کرنا کہ دونوں کی دونوں کامیاب اور اعلیٰ درجہ کی ہوں ، یہ سوائے خدا تعالیٰ کے اور کسی کا کام نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب اس تفسیر کے پڑھنے والے ہر سورۃ کے ابتدائی نوٹوں سے خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔قرآن شریف میں پیشگوئیاں میں دیباچہ کے شروع میں یہ بیان کر چکا ہوں کہ قرآن شریف کے متعلق پہلے انبیاء نے پیشگوئیاں کی ہیں۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ خود قرآن کریم میں بھی پیشگوئیاں موجود ہیں اور یورپین مصنفین