انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 441

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۴۱ دیباچہ تفسیر القرآن کا یہ خیال کہ قرآن کریم میں پیشگوئیاں نہیں ، بالکل غلط ہے۔قرآن کریم تو شروع ہی پیشگوئی سے ہوا ہے۔چنانچہ اس کی پہلی چند آیتوں ہی میں جو غار حراء میں نازل ہوئی تھیں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ قرآن کریم کے ذریعہ وہ علوم بیان کئے جائیں گے جو اس سے پہلے انسان کو معلوم نہیں تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے وہ باتیں بیان کی ہیں جو پہلی کتابوں نے بیان نہیں کی تھیں۔اور اُن کی غلطیاں نکالی ہیں اور اِس زمانہ میں اُن کی تصدیق ہو رہی ہے مثلاً (۱) قرآن کریم نے یہ بتایا تھا کہ فرعون کی لاش اُس کے ڈوبنے کے وقت ہی بچا لی گئی اور محفوظ کر دی گئی تھی تا کہ وہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کیلئے نشان کے طور پر کام آئے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَجَاوَزْنَا بِبَني إسراءيل الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدُوا، حَتَّى إذَا ادْرَكَهُ الخَرَقُ، قَالَ امّنْتُ أنّ لا إلهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنوا إسراءيل و أنا مِنَ الْمُسْلِمِينَ - آلن وَقَدْ عَصَيْتُ قَبْلُ وَكُنْتَ مِن الْمُفْسِدِينَ - فَاليَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً، وَإِنَّ كَثِيراً مِّنَ النَّاسِ عَنْ ابْتِنَا لَغْفِلُونَ ۵۴۴ ترجمہ: ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پارسلامتی سے اُتار دیا اور اُن کے بعد فرعون اور اُس کا لشکر سرکشی اور دشمنی سے ان کے پیچھے آیا اور پیچھا کرتا چلا گیا۔یہاں تک کہ اس کے غرق کرنے کے ہم نے سامان کر دیئے۔اُس وقت فرعون نے کہا میں ایمان لاتا ہوں کہ بنو اسرائیل جس خدا پر ایمان لائے ہیں اُس کے سوا اور کوئی خدا نہیں۔تب ہم نے کہا تو اب ایمان لاتا ہے اور اس سے پہلے تو نے خوب فساد مچا رکھا ہے تھا۔پس اب تیرے اس ناقص ایمان کے بدلہ میں تیرے جسم کو نجات دیں گے تا ( تیرا جسم ) ہمیشہ ہمیش کے بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے عبرت کا موجب ثابت ہوا اور لوگوں میں سے اکثر ہمارے نشانوں سے غافل رہتے ہیں۔یہ مضمون نہ بائبل میں مذکور ہے نہ یہودیوں کی تاریخ میں مذکور ہے نہ کسی اور معروف تاریخ میں مذکور ہے۔تیرہ سو سال پہلے قرآن نے یہ خبر دی اور اس خبر دینے کے تیرہ سو سال کے بعد فرعون موسیٰ کی ممی مل گئی۔جس سے معلوم ہوا کہ ڈوبنے کے بعد اس کی لاش ضائع نہیں ہو گئی تھی