انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 313

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۱۳ دیباچہ تفسیر القرآن سوال: پھر اُس نے پوچھا کیا تم دعوئی سے پہلے اُس پر جھوٹ کا الزام لگایا کرتے تھے؟ جواب: ابوسفیان نے کہا۔نہیں۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ جواب: ابوسفیان نے کہا نہیں۔سوال: پھر بادشاہ نے پوچھا۔اس کی عقل اور اس کی رائے کیسی ہوتی ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ہم نے اس کی عقل اور رائے میں کبھی کوئی عیب نہیں دیکھا۔سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔کیا بڑے بڑے جابر اور قوت والے لوگ اس کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں یا غریب اور مسکین لوگ؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔غریب اور مسکین اور نو جوان لوگ۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔بڑھتے چلے جاتے ہیں۔سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔کیا اُن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اُس کے دین کو بُراسمجھ کے مرتد ہوئے ہیں۔جواب: ابوسفیان نے کہا۔نہیں۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔کیا اس نے کبھی اپنے عہد کو بھی تو ڑا ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔آج تک تو نہیں۔مگر اب ہم نے ایک نیا عہد باندھا ہے دیکھیں اب وہ اس کے متعلق کیا کرتا ہے۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔کیا تمہارے اور اس کے درمیان کبھی جنگ بھی ہوئی ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ہاں۔سوال: اس پر بادشاہ نے پوچھا۔پھر اُن لڑائیوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔گھاٹ کے ڈولوں والا حال ہے۔کبھی ہمارے ہاتھ میں ڈول ہوتا ہے کبھی اس کے ہاتھ ڈول ہوتا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ بدر کی لڑائی ہوئی اور میں اس میں شامل نہیں تھا اس لئے وہ غالب آ گیا تھا اور دوسری دفعہ اُحد میں لڑائی ہوئی اُس وقت