انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 312

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۱۲ دیباچہ تفسیر القرآن محرم ۶۲۸ء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لے کر مختلف صحابہ مختلف ممالک کی طرف روانہ ہو گئے۔ان میں سے ایک خط قیصر روما کے نام تھا اور ایک خط ایران کے بادشاہ کی طرف تھا۔ایک خط مصر کے بادشاہ کی طرف تھا جو قیصر کے ماتحت تھا۔ایک نجاشی کی طرف تھا جو حبشہ کا بادشاہ تھا۔اسی طرح بعض اور بادشاہوں کی طرف آپ نے خطوط لکھے۔قیصر روم ہر قل کے نام خط قیصر روما کاخط یہ کبھی صحابی کے ہاتھ بھیجا گیا اور آپ نے اُسے ہدایت کی تھی کہ پہلے وہ بصرہ کے گورنر کے پاس جائے جو نسلاً عرب تھا اور اس کی معرفت قیصر کو خط پہنچائے۔جب وحیہ کلبی گورنر بصرہ کے پاس خط لے کر پہنچے تو اتفاقاً اُنہی دنوں قیصر شام کے دورہ پر آیا ہوا تھا۔چنانچہ گورنر بصرہ نے دحیہ کو اس کے پاس بجھوا دیا۔جب وحیہ ، گورنر بصرہ کی معرفت قیصر کے پاس پہنچے تو دربار کے افسروں نے اُن سے کہا کہ قیصر کی خدمت میں حاضر ہونے والے ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ قیصر کو سجدہ کرے۔دحیہ نے انکار کیا اور کہا کہ ہم مسلمان کسی انسان کو سجدہ نہیں کرتے چنانچہ بغیر سجدہ کرنے کے آپ اُس کے سامنے گئے اور خط پیش کیا۔بادشاہ نے ترجمان سے خط پڑھوایا اور پھر حکم دیا کہ کوئی عرب کا قافلہ آیا ہو تو اُن لوگوں کو پیش کرو تا کہ میں اس شخص کے حالات اُن سے دریافت کروں۔اتفاقاً ابوسفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ اُس وقت وہاں آیا ہوا تھا۔دربار کے افسر ابوسفیان کو بادشاہ کی خدمت میں لے گئے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ ابوسفیان کوسب سے آگے کھڑا کیا جائے اور اس کے ساتھیوں کو اس کے پیچھے کھڑا کیا جائے اور ہدایت کی کہ اگر ابوسفیان کسی بات میں جھوٹ بولے تو اس کے ساتھی اس کی فوراً تردید کریں۔پھر اس نے ابوسفیان سے سوال کیا کہ:۔سوال: یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور جس کا خط میرے پاس آیا ہے کیا تم اس کو جانتے ہو اس کا خاندان کیسا ہے؟ جواب : ابوسفیان نے کہا۔وہ اچھے خاندان کا ہے اور میرے رشتہ داروں میں سے ہے۔سوال: پھر اُس نے پوچھا کیا ایسا دعویٰ عرب میں پہلے بھی کسی شخص نے کیا ہے؟ جواب: تو ابوسفیان نے جواب دیا نہیں۔