انوارالعلوم (جلد 20) — Page 296
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۹۶ دیباچہ تفسیر القرآن لڑائی شروع کر چکے ہیں تم بھی اُس وقت تک لڑائی کو جاری رکھو جب تک کہ دین میں دخل اندازی کرنے کے طریق کو وہ نہ چھوڑیں اور وہ تسلیم نہ کر لیں کہ دین کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس میں جبر کرنا کسی انسان کے لئے جائز نہیں۔اگر وہ یہ طریق اختیار کر لیں اور دین میں دخل اندازی سے باز آجائیں تو فوراً لڑائی بند کر دو کیونکہ سزا صرف ظالموں کو دی جاتی ہے۔اور اگر وہ اس قسم کے ظلم سے باز آ جا ئیں تو پھر اُن سے لڑائی کرنا جائز نہیں ہوسکتا۔ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ:۔اوّل: لڑائی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہونی چاہئے یعنی ذاتی لالچوں ، ذاتی حرصوں ، ملک - کرنے کی نیت یا اپنے رسوخ کو بڑھانے کی نیت سے لڑائی نہیں ہونی چاہئے۔دوم: لڑائی صرف اُسی سے جائز ہے جو پہلے حملہ کرتا ہے۔سوم : انہی سے تم کو جنگ کرنی جائز ہے جو تم سے لڑتے ہیں یعنی جو لوگ با قاعدہ سپاہی نہیں اور لڑائی میں عملاً حصہ نہیں لیتے اُن کو مارنا یا اُن سے لڑائی کرنا جائز نہیں۔چهارم: با وجود دشمن کے حملہ میں ابتدا کرنے کے لڑائی کو اُس حد تک محدود رکھنا چاہئے جس حد تک دشمن نے محدود رکھا ہے اور اُسے وسیع کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے نہ علاقہ کے لحاظ سے اور نہ ذرائع جنگ کے لحاظ سے۔پنجم: جنگ صرف جنگی فوج کے ساتھ ہونی چاہئے یہ نہیں کہ دشمن قوم کے اکے ڈکے افراد کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔ششم: جنگ میں اس امر کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ مذہبی عبادتوں اور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں روکیں پیدا نہ ہوں۔اگر دشمن کسی ایسی جگہ پر جنگ کی طرح نہ ڈالے جہاں جنگ کرنے سے اُس کی مذہبی عبادتوں میں رخنہ ہوتا ہو تو مسلمانوں کو بھی اُس جگہ جنگ نہیں کرنی چاہئے۔ہفتم: اگر دشمن خود مذہبی عبادت گاہوں کو لڑائی کا ذریعہ بنائے تو پھر مجبوری ہے ورنہ تم کو ایسا نہ کرنا چاہیے۔اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ عبادت گاہوں کے اردگرد بھی