انوارالعلوم (جلد 20) — Page 297
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۹۷ دیباچہ تفسیر القرآن لڑائی نہیں ہونی چاہئے کجا یہ کہ عبادت گاہوں پر حملہ کیا جائے یا وہ مسمار کی جائیں یا تو ڑی جائیں۔ہاں اگر دشمن خود عبادت گاہوں کو لڑائی کا قلعہ بنالے تو پھر اُن کے نقصان کی ذمہ داری اُس پر ہے اس نقصان کی ذمہ داری مسلمانوں پر نہیں۔ہشتم: اگر دشمن مذہبی مقاموں میں لڑائی شروع کرنے کے بعد اُس کے خطرناک نتائج کو سمجھ جائے اور مذہبی مقام سے نکل کر دوسری جگہ کو میدانِ جنگ بنالے تو مسلمانوں کو اس بہانہ سے اُن کے مذہبی مقاموں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے کہ اس جگہ پر پہلے اُن کے دشمنوں نے لڑائی شروع کی تھی بلکہ فوراً اُن مقامات کے ادب اور احترام کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے حملہ کا رُخ بھی بدل دینا چاہئے۔نم: لڑائی اُس وقت تک جاری رکھنی چاہئے جب تک کہ مذہبی دست اندازی ختم ہو جائے اور دین کے معاملہ کو صرف ضمیر کا معاملہ قرار دیا جائے۔سیاسی معاملوں کی طرح اس میں دخل اندازی نہ کی جائے۔اگر دشمن اس بات کا اعلان کر دے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو خواہ وہ حملہ میں ابتدا کر چکا ہو اُس کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔(۳) فرماتا ہے قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرُ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنتُ الأَوَّلِينَ - وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةُ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرُ - وَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا انَّ اللهَ مَوْلَيكُمْ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ - ۳۰۵ یعنی اے محمد رسول اللہ ! دشمن نے جنگیں شروع کیں اور تمہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے اُن کا جواب دینا پڑا۔مگر تو اُن میں اعلان کر دے کہ اگر اب بھی وہ لڑائی سے باز آجائیں تو جو کچھ وہ پہلے کر چکے ہیں انہیں معاف کر دیا جائے۔لیکن اگر وہ لڑائی سے بازی نہ آئیں اور بار بار حملے کریں تو پہلے انبیاء کے دشمنوں کے انجام اُن کے سامنے ہیں انجام ان کا بھی وہی ہوگا۔اور اے مسلمانو ! تم اُس وقت جنگ کو جاری رکھو کہ مذہب کی خاطر دُکھ دینا مٹ جائے اور دین کو کلی طور پر خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے اور دین کے معاملہ میں دخل اندازی کرنا لوگ چھوڑ دیں۔پھر اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز آجائیں تو محض اس وجہ سے اُن سے