انوارالعلوم (جلد 20) — Page 291
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۹۱ دیباچہ تفسیر القرآن وقفہ پڑ جانا اُس زمانہ میں جنگ کے ختم ہو جانے کے مترادف نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ وقفہ بھی جنگ ہی میں شمار کیا جاتا تھا۔بعض لوگوں کے دلوں میں اس موقع پر یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا ایک بچے مذہب کے لئے لڑائی کرنا جائز ہے؟ یہودیت اور عیسائیت کی تعلیم دربارہ جنگ میں اس جگہ اس سوال کا جواب بھی دے دینا ضروری سمجھتا ہوں جہاں تک مذاہب کا سوال ہے لڑائی کے بارہ میں مختلف تعلیمیں ہیں۔موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم لڑائی کے بارہ میں اوپر درج کر آیا ہوں۔تو رات کہتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ بزور کنعان میں گھس جائیں اور اُس جگہ کی قوموں کو شکست دے کر اس علاقہ میں اپنی قوم آباد کریں ۲۹۸ مگر باوجود اس کے کہ موسیٰ نے یہ تعلیم دی اور باوجود اس کے کہ یوشع ، داؤد اور دوسرے انبیاء نے اس تعلیم پر متواتر عمل کیا یہودی اور عیسائی اُن کو خدا کا نبی اور تو رات کو خدا کی کتاب سمجھتے ہیں۔موسوی سلسلہ کے آخر میں حضرت مسیح ظاہر ہوئے اُن کی جنگ کے متعلق یہ تعلیم ہے کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے ۲۹۹۔اس سے استنباط کرتے ہوئے عیسائی قوم یہ دعوی کرتی ہے کہ مسیح نے لڑائی سے قوموں کو منع کیا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انجیل میں اس تعلیم کے خلاف اور تعلیمیں بھی آئی ہیں۔مثلاً انجیل میں لکھا ہے:۔یہ مت سمجھو کہ میں زمین پر صلح کروانے آیا ہوں صلح کروانے نہیں بلکہ تلوار وو چلانے آیا ہوں ۳۰۰ اسی طرح لکھا ہے:۔اُس نے اُنہیں کہا پر اب جس کے پاس بٹوا ہو لیوے اور اسی طرح جھولی بھی۔اور جس کے پاس تلوار نہیں اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدے۔۳۰۱ یہ آخری دو علیمیں پہلی تعلیم کے بالکل متضاد ہیں۔اگر مسیح جنگ کرانے کے لیئے آیا تھا تو پھر ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال پھیر دینے کے کیا معنی تھے؟ پس یا تو یہ دونوں قسم کی متضاد ہیں