انوارالعلوم (جلد 20) — Page 148
انوار العلوم جلد ۲۰ وو ۱۴۸ دیباچہ تفسیر القرآن اور ساری جماعت اُٹھ کے اُسے پیلاطوس کے پاس لے گئی اور اس پر نالش کرنی شروع کی کہ اُسے ہم نے قوم کو بہکاتے اور قیصر کو محصول دینے سے منع کرتے اور اپنے تئیں مسیح بادشاہ کہتے پایا۔تب پیلاطوس نے اُس سے پوچھا کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ اُس نے اُس کے جواب میں کہا وہی ہے جو تو کہتا ہے“۔۱۵۲ یوحنا باب ۱۸ آیت ۳۷ میں لکھا ہے:۔' تب پیلا طوس نے اُسے کہا سو کیا تو بادشاہ ہے؟ یسوع نے جواب دیا کہ جیسا آپ فرماتے ہیں میں بادشاہ ہوں“۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باوجود حکومت اور طاقت حاصل ہونے کے بادشاہ کہلانے سے سخت نفرت رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ قیصر و کسری والا رنگ ہم میں نہیں ہونا چاہئے۔اُن کو جب خدا تعالی اقتدار بخشتا ہے تو وہ بنی نوع انسان کو غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے خدمت خلق کے لئے پیدا کیا ہے۔66 پھر لکھا تھا کہ اُس کا نام عجیب ہو گا۔حضرت مسیح خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ عجیب نام پانے والا وہ موعود ہے جو ان کے بعد آئے گا۔چنانچہ انگورستان کی مثال میں حضرت مسیح کہتے ہیں:۔ایک مالک نے انگورستان لگایا اور باغبانوں کے حوالے کر دیا۔پھر مالک نے نوکروں کو اُس کا پھل لانے کے لئے باغبانوں کے پاس بھیجا مگر باغبانوں نے باری باری تمام نوکروں کو مارا پیٹا یا پتھراؤ کیا۔اس کے بعد اور بڑے بڑے نو کر بھیجے گئے مگر اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا۔پھر اُس نے اپنے بیٹے کو بھیجا مگر بیٹے کو بھی انہوں نے مار ڈالا۔۱۵۳ اس کے بعد مسیح نے لوگوں سے سوال کیا کہ وہ باغبان جنہوں نے یہ معاملہ کیا بتاؤ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟ لوگوں نے کہا:۔ان بدوں کو بُری طرح مار ڈالے گا اور انگورستان کو اور باغبانوں کو سونپے گا جواُسے موسم میں میوہ پہنچا دیں۔یسوع نے انہیں کہا کہ کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راجگیر وں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔یہ خدا کی طرف