انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 82

انوار العلوم جلد ۲۰ ۸۲ دیباچہ تفسیر القرآن نے عیسائیوں کے سامنے اس حوالہ کو پیش کیا اور انہیں بتایا کہ تم مسیح کی معصومیت کا دعوی کس طرح کر سکتے ہو جبکہ مسیح خودا اپنی معصومیت کا اعتراف نہیں کرتا بلکہ صرف اتنی سی بات پر کہ ایک شخص نے اسے نیک استاد کہہ کر پکار اوہ کہہ اُٹھا کہ تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔یہ اعتراض ایسا زبردست تھا کہ عیسائیوں سے اس کا جواب بن نہ پڑا اور وہ اس بات پر مجبور ہوئے کہ اس آیت کے الفاظ اور اس کے مفہوم کو بالکل بدل ڈالیں۔چنانچہ موجودہ کی انا جیل میں مذکورہ بالا الفاظ کو بدل کر یہ الفاظ درج کر دیئے گئے ہیں:۔اور دیکھو ایک شخص نے پاس آ کر کہا اے استاد! میں کونسی نیکی کروں تا کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں۔اُس نے اُس سے کہا تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے نیک تو ایک ہی ہے۔66 تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے اور تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے۔ان دونوں کی فقرات میں موجود جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔ایک حوالہ میں اپنے نیک ہونے سے انکار کیا گیا ہے اور دوسرے حوالہ میں صرف اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ تُو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں سوال کرتا ہے۔حالانکہ حضرت مسیح دنیا میں آئے ہی اس لئے تھے کہ وہ لوگوں کو نیکی اور ہدایت کی راہ کی بتائیں۔اگر وہ نیکی اور ہدایت کی راہ بتانے کیلئے نہیں آئے تھے تو ان کی بعثت کی غرض کیا تھی۔اُن کو ہمارے عقیدہ کے مطابق خدا تعالیٰ کا نبی کہو یا عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کا بیٹا سمجھو دونوں صورتوں میں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ دنیا کو ہدایت اور نیکی کی راہ بتانے کے لئے آئے تھے۔پس جب وہ آئے ہی اسی غرض کے لئے تھے کہ لوگوں کو نیکی اور ہدایت کی راہ بتا ئیں تو وہ یہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے پھر اگر ان سے نیکی کی بابت کچھ پوچھنا جرم تھا یا وہ دوسروں کو بتا نہیں سکتے تھے کہ نیکی کی راہ کون سی ہے تو انجیل کی کے مختلف مقامات پر انہوں نے نیکی کی تعلیم کیوں دی ہے؟ ایک طرف اُن کا لوگوں کو نیکی کی راہ می بتا نا اور دوسری طرف ان کا اس منصب پر کھڑا ہونا کہ لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کا موجب بنیں ، بتا رہا ہے کہ اُن سے یہ سوال نہیں کیا گیا تھا اے استاد ! میں کونسی نیکی کروں؟ اور نہ انہوں نے یہ جواب دیا کہ تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے بلکہ در حقیقت ان سے وہی سوال کیا