انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 75

انوار العلوم جلد ۲۰ ۷۵ دیباچہ تفسیر القرآن مصنف معقول آدمی نہیں تھے۔خدا تعالیٰ کے نبیوں کے خاص حواری معقول ہوا کرتے ہیں۔پس ایک ہی صورت رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ حواریوں نے اصل میں کوئی انجیل نہیں لکھوائی تھی۔وہ زبانی باتیں کہتے تھے۔کچھ عرصہ کے بعد ان کے شاگردوں کے شاگردوں نے اُن کی زبانی باتوں میں اپنے خیالات ملا دیئے اور اس طرح وہ اناجیل متضاد باتوں کا مجموعہ بن کر رہ گئیں۔انا جیل کی تحریف و تبدل کے اندورنی شہادت پیش کرنے کے بعد اب ہم انجیل کے متعلق بعض عیسائی علماء کے خیالات متعلق عیسائی علماء کے خیالات درج کرتے ہیں۔(الف) تفسیر ہارن جلد ۴ حصہ دوم باب ۴ مطبوعہ ۱۸۸۲ء میں لکھا ہے:۔کلیسیا کے قدماء مؤرخین سے اناجیل کی تالیف کے زمانہ کے متعلق جو حالات ہم تک پہنچے ہیں ایسے غیر معین اور ابتر ہیں کہ کسی ایک امر معین کی طرف نہیں پہنچاتے اور پُرانے قدماء نے اپنے وقت کی گپوں کو سچ سمجھ کر لکھ دیا اور اُن لوگوں نے جو اُن کے بعد ہوئے ادب کر کے ان لوگوں کے لکھے ہوئے کو قبول کر لیا اور یہ روایات سچی اور جھوٹی ایک لکھنے والے سے دوسرے لکھنے والے کو پہنچیں اور مدت دراز کے گزر جانے کے بعد اُن کی تنقید مُتَعَذِّرُ ہو گئی۔(ب ) پھر اس جلد میں لکھا ہے کہ:۔پہلی انجیل ۳۷ یا ۳۸ یا ۴۱ یا ۴۳ یا ۴۸ یا ۶۱ ۶۲ یا ۶۴ عیسوی میں اور دوسری انجیل ۵۶ سے ۶۵ تک اور غالبا ۶۰ یا ۶۳ میں اور تیسری انجیل ۵۳ یا ۶۳ میں یا ۶۴ میں اور چوتھی انجیل ۶۸ یا ۶۹ یا • ۷ یا ۹۷ یا ۹۸ عیسوی میں تألیف ہوئیں اور نامۂ عبرانیہ یا۶۹ اور نامہ روم پطرس اور نامہ دوم سوم یوحنا اور نامہ یعقوب اور نامہ یہودا اور مشاہدات یوحنا اور نامہ اوّل یوحنا کے بعض ورس ( یعنی آیات ) کا حال تو ایسا ابتر ہے کہ کہنے کے لائق نہیں ان کو تو محض زبردستی سے ہلا سند حواریوں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بہت علماء فرقہ پروٹسٹنٹ نے ان کتب کا انکار کیا تھا“۔کے