انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 57

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۷ دیباچہ تفسیر القرآن نیک و بد کی پہچان دینے کی خاصیت تھی اور یا یہ کہ یہ دو درخت تھے۔ایک میں حیات بخشنے کی طاقت تھی اور دوسرے میں نیک و بد کی پہچان دینے کی طاقت تھی۔اگر اس کے معنی یہ لئے جائیں کہ یہ دو درخت نہیں تھے بلکہ ایک ہی درخت تھا تو پیدائش باب ۲ آیت ۱۷ کا حوالہ جو او پر لکھا جا چکا ہے کہ : در جس دن تو اس سے کھائے گا مر جائے گا۔غلط ہو جاتا ہے۔کیونکہ آیت ۹ تو اُسے حیات کا درخت قرار دیتی ہے موت کا نہیں۔اور اگر یہ دو الگ الگ درخت تھے تو پھر یہ دونوں آیتیں متضاد ہیں۔کیونکہ نیک و بد کی پہچان کے درخت سے کھانے سے موت کا آنا لازمی نہ تھا اس لیے کہ اگر آدم حیات کے درخت سے کھا لیتے جیسا تی کہ بائبل سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے کھایا تو نیک و بد کی پہچان کے درخت سے کھانے کے با وجود اُن پر موت کیونکر آئی ؟ اگر ایک درخت کے کھانے سے موت لا ز ما آنی تھی تو دوسرے درخت کا پھل کھانے سے حیات جاودانی مل جانی تھی۔ایسے شخص کا معاملہ تو کوئی عقل حل ہی نہیں کر سکتی کہ ایک درخت اسے ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنا چاہتا ہے اور دوسرا درخت اُسے مار دینا چاہتا ہے۔بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم اور ان کی بیوی نے حیات کے درخت کا پھل کھایا ہے کیونکہ پیدائش باب ۳ آیت ۲ ،۳ میں لکھا ہے:۔عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل ہم تو کھاتے ہیں مگر اُس درخت کے پھل کو جو باغ کے بیچوں بیچ ہے خدا نے کہا کہ تم اُسے نہ کھانا اور نہ اُسے چھونا ایسا نہ ہو کہ مرجاؤ“۔ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوائے نیک و بد پہچان کے درخت کے باقی سب درختوں کا پھل کی آدم اور اس کی بیوی کھاتے تھے۔اگر بائبل کی یہ بات درست ہے تو آدم اور اس کی بیوی حیات کے درخت کا پھل بھی کھاتے تھے اور جب وہ حیات کے درخت کا پھل بھی کھاتے تھے تو اُن پر موت کس طرح آئی۔لیکن عجیب بات ہے کہ باب ۳ کی آیت ۲۲ میں لکھا ہے کہ خدا نے فرشتوں سے کہا:۔