انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 56

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۶ دیباچہ تفسیر القرآن اب ان دونوں حوالوں میں تطابق کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ نیک و بد کی پہچان خدا کو بھی نہیں کیونکہ آدم خدا کی مانند تھا اور خدا تعالیٰ کی صفات آدم میں پائی جاتی تھیں اور سب سے بڑی صفت نیک و بد کی پہچان ہی ہے کیونکہ سب صفتیں اس کے ماتحت ہی آتی کی ہیں۔اگر آدم کو نیک و بد کی پہچان نہ تھی تو کوئی اچھی صفت بھی بطور خلق کے اس کے اندر نہیں پائی جاتی تھی کیونکہ نیک کام وہی ہوتا ہے جو ارادے اور علم کے ساتھ کیا جاتا ہے جس کام کے ساتھ ارادہ اور ہ اور علم نہ ہو وہ نیک نہیں کہلا سکتا۔جب آدم کو نیک و بد کی پہچان ہی نہ تھی تو آدم اصول اخلاق کے ماتحت نہ کسی بدی سے بچنے والا تھا اور نہ کسی نیکی کو بجالانے والا تھا۔اسی طرح عملی طور پر اسے اچھی اور بُری باتوں کی کوئی تمیز نہ تھی۔کیا خدا تعالیٰ کا وجود بھی یہودی اور مسیحی مذہب کے مطابق ایسا ہی ہے؟ کیا خدا کو اس بات کا کوئی علم نہیں کہ نیکی کیا چیز ہے اور بدی کیا چیز ہے؟ اگر بدی اور نیکی کا اُس کو علم نہیں تو وہ نبیوں کو کیوں بھیجتا ہے؟ اور کیا خدا کی صفات نیکیوں کو قائم کرنے والی اور بدیوں کو مٹانے والی نہیں ہیں ؟ اگر اس سوال کو ہم نظر انداز بھی کر دیں کہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی نیک و بد کی پہچان ہے اور اگر یہ پہچان اسے حاصل نہ ہو تو اس کے وجود کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ بغیر نیک و بد کی پہچان کے آدم خدا کی مانند ہوکس طرح گیا۔اس پہچان کے بغیر وہ خدا کی مانند ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اگر وہ خدا کی مانند تھا تو یہ غلط ہے کہ اسے کہا گیا کہ تو نیک و بد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا۔اور اگر یہ درست ہے کہ اسے کہا گیا تھا کہ نیک و بد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا تو یہ غلط ہے کہ خدا نے اسے اپنی مانند بنایا۔۲۔پیدائش باب ۲ ، آیت ۱۷ میں لکھا ہے :۔جس دن تو اس نیک و بد کی پہچان کے درخت سے کھائے گا تو ضرور مرے گا۔اسی طرح پیدائش باب ۲ آیت ۹ میں لکھا ہے:۔اور باغ کے بیچوں بیچ حیات کے درخت اور نیک و بد کی پہچان کے درخت کو زمین سے لگایا۔اس آیت کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ایک ہی درخت میں دائمی حیات بخشنے اور