انوارالعلوم (جلد 20) — Page 602
انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۰۲ ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام اور وہ اس کام کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگی جو خدا تعالیٰ نے اس کے سپر د کیا ہے۔میں قادیان کے رہنے والے احمدیوں کو اس امر کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ شور وشر کا زمانہ جس نے عمل کے مواقع کو بالکل باطل کر دیا تھا اب ختم ہورہا ہے۔آہستہ آہستہ امن فساد کی جگہ لے رہا ہے۔بہت سی جگہوں کے راستے کھل گئے ہیں اور باقی کے متعلق امید ہے کہ آہستہ آہستہ کھل جائیں گے مگر جس رنگ میں کام چل رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا کی جماعت احمدیہ کا ایک مرکز پر جمع ہو جانا ابھی کچھ وقت چاہتا ہے۔وہ وقت لمبا ہو یا چھوٹا لیکن بہر حال جب تک وہ وقت نہ آئے جس حد تک موجود ہ تعطل کو دور کیا کی جا سکے اس کا دُور کیا جانا ضروری ہے۔گذشتہ سال جو تعطل واقع ہوا وہ معافی کے قابل تھا کیونکہ تمام علاقے آپس میں کٹے ہوئے تھے اور ایک دوسرے تک خبر پہنچانا ناممکن تھا لیکن اب وہ حالت نہیں رہی۔اب کسی نہ کسی ذریعہ سے قادیان اور ہندوستان کی جماعتوں کا تعلق قائم رکھا جا سکتا ہے اور تبلیغ اور اشاعت کے کام کو بھی ہاتھوں میں لیا جا سکتا ہے۔گذشتہ ایام میں جو تبا ہی آئی اس موقعہ پر قادیان کے اکثر احباب نے نہایت ہی عمدہ نمونہ دکھایا اور قابلِ تعریف قربانی پیش کی۔جس پر میں ہی نہیں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا کے دور دراز ملکوں کے لوگ بھی قادیان کے لوگوں کی قربانی کی تعریف کر رہے ہیں۔امریکہ اور یورپ کے لوگ اب قادیان کو صرف ایک مذہبی مرکز کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ قربانی کرنے والے ایثار کرنے والے اور اس دکھ بھری دنیا کو اس کے دکھوں سے نجات دینے کی کوشش کرنے والے لوگوں کا مرکز سمجھ رہے ہیں۔اس نقطہ نگاہ سے قادیان اب صرف احمدیوں کا مرکز نہیں رہا بلکہ وہ مختلف مفید عام کاموں کی خواہش رکھنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی ہو گیا ہے۔ابھی کی چند دنوں کی بات ہے کہ ایک مجلس میں شامل ہونے کا مجھے موقع ملا۔میرے پاس امریکن قونصلی جنرل کی بیوی تشریف رکھتی تھیں۔مجلس سے اٹھتے وقت میں نے ان سے کہا کہ اپنے خاوند سے مجھے انٹروڈیوس کرا دیں۔انہوں نے اپنے خاوند کو مجھ سے ملوایا۔ملنے کے بعد سب سے پہلے فقرہ جو امریکن قونصل جنرل نے کہا وہ یہ تھا کہ مجھے قادیان دیکھنے کی بہت خواہش ہے افسوس ہے کہ اس وقت تک میں اس خواہش کو پورا نہیں کر سکا۔میں نے کہا ہمیں بھی بہت خواہش