انوارالعلوم (جلد 20) — Page 601
انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۰۱ ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام (۲۰ / دسمبر ۱۹۴۸ء) نیا ماحول اور نئی ذمہ داریاں برادران جماعت احمدیہ قادیان و ہندوستان یونین ! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ میں آپ لوگوں کو سالانہ جلسہ کے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت قائم رکھنے کی توفیق پانے پر مبارکباد دیتا ہوں۔سنا گیا ہے کہ ہندوستان یونین نے سو کے قریب ہندوستانی احمدیوں کو جلسہ میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے گو یہ اجازت بہت بعد میں ملی ہے اور شاید اس سے جماعت کے لوگ فائدہ نہ اُٹھا سکیں لیکن اگر بعض افراد کو اس سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق ملی ہو تو میں انہیں بھی اِس اہم موقعہ پر حصہ لینے پر مبارکباد دیتا ہوں۔برادران ! جماعتیں بڑے صدمات میں سے گزرے بغیر کبھی بڑی نہیں ہوتیں۔قربانی کے مواقع کا میسر آنا اور پھر قربانی کرنے کی قابلیت کا ظاہر کر دینا ، یہی افراد کو جماعتوں میں تبدیل کی کر دیتا ہے اور اس سے جماعتیں بڑی جماعت بنتی ہیں۔ہماری قربانیاں اس وقت تک بالکل اور قسم کی تھیں اور ان کو دیکھتے ہوئے نہیں کہا جاسکتا تھا کہ ہماری جماعت کے بڑے بننے کے امکانات موجود ہیں۔مگر اب جو قادیان کا حادثہ پیش آیا ہے وہ اس قسم کے واقعات میں سے ہے جو قوموں کو بڑا بنایا کرتے ہیں۔اگر اس وقت ہماری جماعت نے اپنے فرائض کو سمجھا ، اور ی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا تو بڑائی اور عظمت اور خدائی برکات یقیناً اس کے شامل حال ہوں گی