انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 584

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸۴ احمدیت کا پیغام ہوتے ہیں اور وہ کوئی کام بھی بلا وجہ اور بغیر فائدہ کے نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ ما خَلَقْنَا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لعِبين لا یعنی ہم نے بہ زمین اور آسمان یونہی نہیں پیدا کئے بلکہ ان کی پیدائش میں غرض رکھی ہے اور وہ غرض یہی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرے اور اس کا مظہر بن کر دنیا کے اُن لوگوں کو جو بلند پروازی کی طاقت نہیں رکھتے خدا تعالیٰ سے روشناس کرے۔ابتدائے آفرینش سے لے کر اس وقت تک خدا تعالی کی یہی سنت جاری رہی ہے اور مختلف اوقات میں خدا تعالیٰ نے اپنے مختلف مظاہر اس دنیا میں مبعوث فرمائے۔کبھی خدا تعالیٰ کی صفات آدم کے ذریعہ سے جلوہ گر ہوئیں۔کبھی نوع کے ذریعہ سے جلوہ گر ہوئیں، کبھی ابرا ہیمی جسم میں سے وہ ظاہر ہوئیں تو کبھی موسوی جسم سے ہویدا ہوئیں، کبھی داؤد نے خدا تعالیٰ کا چہرہ دنیا کو دکھایا تو کبھی مسیح نے اللہ تعالیٰ کے انوار کو اپنے وجود میں ظاہر کیا ، سب سے آخر اور سب سے کامل طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو اجمالاً اور تفصیلاً انفرادی حیثیت سے بھی اور اجتماعی حیثیت سے بھی ایسی شان اور ایسے جلال کے ساتھ دنیا پر ظاہر کیا کہ پہلے انبیاء آپ کے شمسی وجود کے آگے ستاروں کی مانند ماند پڑ گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام شریعتیں ختم ہوگئیں اور تمام شریعت لانے والے انبیاء کی آمد کا رستہ بند کر دیا گیا۔کسی جذبہ داری کی وجہ سے نہیں، کسی لحاظ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ رسول کریم ﷺ ایسی شریعت لائے جو تمام ضرورتوں کی جامع اور تمام حاجتوں کو پورا کرنے والی تھی۔جو چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تھی وہ تو پوری ہوگئی لیکن بندوں کے متعلق کوئی ضمانت نہیں تھی کہ وہ صحیح رستہ کو نہیں چھوڑ میں تی گے اور اس سچی تعلیم کو نہیں بھولیں گے بلکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا تھا کہ يدير الأمر من السماء إلى الأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةٌ آلفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّون ۱۳ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے اس آخری کلام اور اپنی اس آخری شریعت کو آسمان سے زمین پر قائم کر دے گا اور لوگوں کی مخالفت اس کے رستہ میں روک نہیں بنے گی۔مگر پھر ایک عرصہ کے بعد یہ کلام آسمان پر چڑھنا شروع ہوگا اور ایک ہزار سال میں یہ دنیا سے اُٹھ جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قیامِ دین کے زمانہ کو تین سو سال کا عرصہ