انوارالعلوم (جلد 20) — Page 583
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸۳ احمدیت کا پیغام کے ہاتھ رہے گا اور کفر شکست کھا جائے گا۔ہم سیاسی جد و جہد کرنے والوں کے رستہ میں روک نہیں بنتے ہم ان سے کہتے ہیں کہ جب تک تمہاری سمجھ میں ہماری باتیں نہ آئیں تم اپنا کام کرتے چلے جاؤ۔لیکن ہم ان سے یہ بھی خواہش کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے رستہ سے نہ روکیں۔اگر کسی کی سمجھ میں ان کا طریقہ اچھا معلوم ہوتا ہے تو وہ ان سے جاملے اور اگر کسی کی سمجھ میں ہمارا طریقہ اچھا معلوم ہوتا ہے تو وہ چی ہم میں آملے۔ان کے طریقہ میں قربانی کم اور شہرت زیادہ ہے اور ہمارے طریقہ میں قربانی زیادہ اور شہرت کم ہے۔ان کو ان کا حصہ ملتا رہے گا اور ہم کو ہمارا حصہ ملتا رہے گا۔جن لوگوں کی نگاہ میں مغز اور حقیقت کے لحاظ سے اسلام کا قیام زیادہ ضروری ہوگا وہ ہم میں آملیں گے اور جو لوگ ظاہری بادشاہت کے شیدائی ہوں گے، وہ اُن میں جا ملیں گے۔لیکن ہم لڑیں کیوں اور کی جھگڑیں کیوں؟ دونوں ہی غم ملت میں تڑپ رہے ہیں۔گو جدا جدا اعضاء میں ٹیں اُٹھ رہی ہے۔ان کے دماغوں میں درد ہے، ہمارے دل اذیت پارہے ہیں۔یہ تو میں نے عقلی نقطہ نگاہ سے جواب دیا ہے۔اب میں روحانی نقطہ نگاہ سے جواب دیتا ہوں اور میرے نزدیک وہی حقیقی نقطہ نگاہ ہے۔اس سوال کا روحانی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ جب کبھی دنیا میں خرابی پھیل جاتی ہے ، روحانیت اس سے مفقود ہو جاتی ہے، لوگ دنیا کو دین پر مقدم کرنے لگ جاتے ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے آسمان سے کسی ماً مور کو مبعوث فرماتا ہے تا کہ اس کے کھوئے ہوئے بندوں کو پھر اس کی طرف واپس لائے اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو پھر دنیا میں قائم کرے۔بعض دفعہ یہ مامورین شریعت ساتھ لاتے ہیں اور بعض دفعہ کسی پہلی شریعت کے قائم کرنے کیلئے آتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے اور بار بار بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کے اس رحم اور کرم کی شناخت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ بہت بڑی شان رکھتا ہے اور انسان اس کے مقابلہ میں ایک کیڑے سے بھی بدتر ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام کام حکمت سے پُر