انوارالعلوم (جلد 20) — Page 505
انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن غروب ہوتا تھا وہ میرے دشمنوں کے تنزل کے اسباب چھوڑ جاتا تھا ، یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو میرے ذریعہ سے دنیا بھر میں پھیلا دیا اور قدم قدم پر میری خدا تعالیٰ نے راہنمائی کی اور بیسیوں موقعوں پر اپنے تازہ کلام سے مجھے مشرف فرمایا۔یہاں تک ایک دن اُس نے مجھ پر یہ ظاہر کر دیا کہ میں ہی وہ موعود فرزند ہوں جس کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۸۶ء میں میری پیدائش سے پانچ سال پہلے دی تھی۔اُس وقت سے خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد اور بھی زیادہ زور پکڑ گئی اور آج دنیا کے ہر براعظم پر احمدی مشنری اسلام کی لڑائیاں لڑ رہے ہیں۔قرآن جو ایک بند کتاب کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت اور مسیح موعود علیہ السلام کے فیض سے ہمارے لئے یہ کتاب کھول دی ہے اور اس میں سے نئے سے نئے علوم ہم پر ظاہر کیے جاتے ہیں۔دنیا کا تی کوئی علم نہیں جو اسلام کے خلاف آواز اُٹھا تا ہو اور اس کا جواب خدا تعالیٰ مجھے قرآن کریم سے ہی نہ سمجھا دیتا ہو۔ہمارے ذریعہ سے پھر قرآنی حکومت کا جھنڈا اونچا کیا جارہا ہے اور خدا تعالیٰ کے کلاموں اور الہاموں سے یقین اور ایمان حاصل کرتے ہوئے ہم دنیا کے سامنے پھر قرآنی فضیلت کو پیش کر رہے ہیں لیکن دنیا خواہ کتنا ہی زور لگائے ، مخالفت میں کتنی ہی بڑھ جائے ، گو دنیا کے ذرائع ہماری نسبت کروڑوں کروڑ گنے زیادہ ہیں یہ ایک قطعی اور یقینی بات ہے کہ سورج کی مل سکتا ہے ستارے اپنی جگہ چھوڑ سکتے ہیں، زمین اپنی حرکت سے رک سکتی ہے، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی فتح میں اب کوئی شخص روک نہیں بن سکتا۔قرآن کی حکومت دوبارہ قائم کی جائے گی اور دنیا اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں یا انسانوں کی پوجا کو چھوڑ کر خدائے واحد کی عبادت کرنے لگے گی اور باوجود اس کے کہ دنیا کی حالت اس وقت قرآنی تعلیم کو قبول کرنے کے خلاف ہے اسلام کی حکومت پھر قائم کر دی جائے گی اس طرح کہ پھر اُس کی جڑوں کا ہلانا انسان کے لئے ناممکن ہو جائے گا۔اس شیطان کی برباد کردہ دنیا کے جنگل میں خدا نے پھر ایک بیج بویا ہے میں ایک ہوشیار کرنے والے کی صورت میں دنیا کو ہوشیار کرتا ہوں کہ یہ پیج بڑھے گا ، ترقی کرے گا، پھیلے گا اور پھلے گا اور وہ روحیں جو بلند پروازی کا اشتیاق رکھتی ہیں ، جن کے دلوں کے مخفی گوشوں میں خدا تعالیٰ کے ساتھ ملنے کی تڑپ ہے وہ ایک