انوارالعلوم (جلد 20) — Page 504
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۰۴ دیباچہ تفسیر القرآن اُس وقت صرف پچیس سال کی عمر کا تھا اور تمام مادی ذرائع سے محروم تھا۔جماعت کی باگ ڈور کلی طور پر ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی جنہوں نے خلافت کے اصول کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا ،لیکن قادیان کی موجودہ جماعت کی کثرت جنہیں یہ باغی لوگ جاہلوں کی کثرت کہتے تھے اس بات پر مصر تھی کہ ہم خلافت کے طریق کو قرآنی احکام کے مطابق جاری رکھیں گے۔چنانچہ ان لوگوں کے اصرار پر میں نے جماعت احمدیہ سے بیعت لے لی اور خلیفہ ثانی کے طور پر جماعت کی ، اسلام کی اور دنیا کی خدمت کا کام کرنا شروع کیا۔چونکہ جماعت کے سر بر آوردہ اور بڑے لوگ مخالف ہو گئے تھے اس لئے جماعت کی حالت اُس وقت بہت خطرناک نظر آتی تھی اور بیرونی دنیا کی نظریں بھی اب اس امید سے اُٹھ رہی تھیں کہ چند دن میں اس سلسلہ کی عمارت پاش پاش ہو جائے گی مگر اُس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ وہ میری مدد کرے گا اور مجھے غلبہ دے گا اور میرے مخالفوں کو جو طاقتور ہیں کمزور کرے گا اور اُن میں تفرقہ پیدا کر کے انہیں پاش پاش کر دے گا۔احمد یہ جماعت میں سے زیادہ تعلیم یافتہ اور زیادہ تجربہ کار آدمی نکل گئے۔احمد یہ جماعت میں سے زیادہ مالدار اور زیادہ رسوخ والے آدمی الگ ہو گئے۔وہ لوگ لاین جو سلسلہ کا دماغ سمجھے جاتے تھے وہ اس سے کٹ گئے۔میری عمر کے لحاظ سے خلافت سے بغاوت کرنے والا گروہ یہ آوازیں بلند کرتا تھا کہ سلسلہ کی باگ ڈور ایک بچہ کے ہاتھ میں چلی گئی ہے اب یہ سلسلہ تباہ ہوکر رہے گا۔حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی لیکن وہ خدا کہ جس نے قرآن شریف نازل کیا ہے، وہ خدا کہ جس نے اس دنیا کے لئے ایک کے مطابق مصلح موعود کا ظہور روحانی نظام بنایا ہے جس کے ماتحت یہ دنی تر قی کر رہی ہے۔وہ خدا جس نے احمد علیہ السلام مسیح موعود مہدی معہود کو بتایا تھا کہ وہ ان کی ذریت کی سے ۱۸۸۶ ء سے لے کر ۹ سال کے اندر ایک لڑکا پیدا کرے گا جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے جلد جلد ترقی کرے گا اور دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اسلام کو دنیا میں پھیلا کر اسیروں کی رستگاری اور مردوں کے احیاء کا موجب ہوگا۔اس کی بات پوری ہوئی اور اُس کا کلمہ اُونچا رہا۔ہر روز جو طلوع ہوتا تھا وہ میری کامیابی کے سامانوں کو ساتھ لاتا تھا، ہر روز جو