انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 474

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۷۴ دیباچہ تفسیر القرآن کیا مگر وہ مخصوص ہو گیا ہے بنی اسرائیل سے یا مخصوص ہو گیا ہے ہنود سے یا مخصوص ہو گیا ہے ایرانیوں سے۔قرآن مجید اس عقیدہ کو رڈ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف اپنی ذات میں منفرد ہے بلکہ وہ منبع ہے تمام کائنات کا۔(احد کا لفظ جو سورۃ اخلاص کی مندرجہ بالا آیت میں استعمال کیا گیا ہے اس کے معنی منفرد کے بھی ہوتے ہیں اور اکائی کے بھی ہوتے ہیں یعنی وہ کی منبع جو خود تعدد سے باہر ہوتا ہے لیکن تعدد اس کے اثر سے پیدا ہوتا ہے ) اس آیت کے ذریعہ سے قرآن کریم نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ تمام بنی نوع انسان کا خدا ہی ہادی اور راہنما ہے اُسے کسی قوم کے ساتھ خاص لگاؤ نہیں تمام بنی نوع انسان جو اُس کے قرب کی راہیں تلاش کریں خدا اُن کے لئے اپنے قرب کی راہیں کھولتا ہے۔عرب، بنی اسرائیل، ایرانی، ہندی، چینی، یونانی، افریقی یہ سارے اس کی نظر میں ایک ہیں کیونکہ وہ ان سب کو وجود دینے کا باعث ہے۔تمام دنیا کے تعدد کی وہ اکیلی اکائی ہے۔پھر یہ کہ کر کہ وہ کسی کا بیٹا نہیں اس نے عیسائیت کے مرکزی عقیدہ کو ر ڈ کیا ہے۔اسی طرح مختلف ہندو فرقوں کے مرکزی عقیدہ کو اُس نے رد کیا ہے۔اور یہ کہ کر وہ کسی کا بیٹا نہیں اس نے اس عقیدہ کو ر ڈ کیا ہے کہ کوئی بیٹا خدا ہوسکتا ہو کیونکہ جو اپنے وجود کے لئے دوسرے کا محتاج ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔اور یہ کہہ کر کہ اس کے بالمقابل کوئی اور طاقتیں نہیں ، اس نے اُن مذاہب کے عقائد کو رد کر دیا ہے جو نور اور تاریکی کو علیحدہ علیحدہ وجود قرار دے کر دنیا کے دو متوازی خدا منوانا چاہتے ہیں۔پھر قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ خدا تمام اشیاء کی علت العلل بھی ہے یعنی تمام کی تمام مفردات اس سے نکلی ہیں اور سب کی سب مخلوق اُسی کی طرف لوٹتی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے هو الاول والاخر ۵۶۷ خدا ہی اول ہے اور خدا ہی آخر ہے۔اس کے یہی معنی ہیں کہ ی ہر چیز کا وجود خدا سے آتا ہے اور ہر چیز کی فنا بھی خدا کے قانون کے ماتحت چلتی ہے اگر خدا تعالی دنیا کی موجودات کو وجود نہ بخشا تو وہ کبھی وجود نہ پاسکتی تھیں اور اگر خدا تعالیٰ نے ہی اُن کی فنا کے سامان پیدا نہ کئے ہوتے تو وہ فنا نہیں ہو سکتی تھیں مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کی پیدائش اور فنا خاص قوانین کے ماتحت چلتی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک بالا رادہ ہستی نے اس دنیا کے نظام کو قائم کیا ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو کچھ