انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 35

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۵ دیباچہ تفسیر القرآن ان کی اپنی قو میں انہیں دھوکا باز اور دغا باز کہتیں ، تاریخیں ان کے ذکر کو نظر انداز کر دیتیں اور وہ ہمیشہ کیلئے بدنامی کے گڑھے میں گر جاتے۔پس ان کے دعوئی میں اور نپولین اور ہٹلر وغیرہ کے دعوی میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور اُن کی کامیابیوں اور ان کی کامیابیوں میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔پھر ذرا ان لوگوں کے انجام کو بھی دیکھو۔نپولین ہٹلر اور چنگیز خان کو کتنے لوگ عقیدت اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔ہیرو تو وہ ہوتے ہیں جن کا قبضہ قوم کے ایک حصہ کے دماغوں پر بھی ہو لیکن کیا ان کے ہاتھوں اور پاؤں اور دلوں پر بھی ان لوگوں کا قبضہ ہے؟ مگر ان دنیوی لیڈروں کے مقابلہ پر دینی راہبر ایسے تھے کہ لاکھوں آدمی ہر زمانہ میں ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اُسی طرف آنکھ اُٹھائی ہے جس طرف اُٹھانے کے لئے ان لوگوں نے کہا تھا اور اسی بات کو سنا ہے جس کے سننے کی ان لوگوں نے اجازت دی تھی اور وہی فقرات اپنی زبان پر لائے ہیں جن فقرات کے بولنے کی ان کی طرف سے ہدایت تھی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان ہی کاموں کے لئے چلے ہیں جن کاموں میں حصہ لینے کی اُنہوں نے ترغیب دی تھی۔کیا دوسرے قومی لیڈروں کے متعلق اس مثال کا لا کھواں یا کروڑواں حصہ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے؟ پس یہ لوگ یقیناً خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اور ان کے لائے ہوئے مذہب یقیناً خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے۔بانیانِ مذاہب کی تعلیم اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب خدا تعالی کی طرف سے تھے تو ان کی تعلیمات میں اختلاف کیوں تھا ؟ کیا میں اختلاف کی وجہ خدا تعالی مختلف تعلیمیں دے سکتا ہے جبکہ کوئی عقلمند انسان بھی تعلیمیں نہیں دیا کرتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ہی قسم کے حالات میں مختلف قسم کی چی تعلیمیں نہیں دی جاتیں بلکہ مختلف حالات میں مختلف تعلیمیں دینا ہی حکیم ، ہستیوں کا کام ہوتا ہے ہے۔آدم کے زمانہ میں تمام بنی نوع ایک ہی جگہ رہتے تھے اس لئے ان کے لئے ایک ہی قسم کی تعلیم کافی تھی۔شاید نوع تک بھی یہی حالت تھی مگر میں اس کے متعلق قطعی رائے نہیں رکھتا۔بائبل کہتی ہے کہ بابل کے زمانہ تک تمام قو میں ایک ہی جگہ پر رہتی تھیں۔گو بائبل تاریخ کی کتاب نہیں لیکن ایک بات جو اس دعوی کی تائید میں مجھے تاریخ سے نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی