انوارالعلوم (جلد 20) — Page 34
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۴ دیباچہ تفسیر القرآن میں تیر کر منزل مقصود تک پہنچ گئے اور یہ کام انسانی طاقت سے باہر ہے۔بانیانِ مذاہب کے ذریعہ ٥۔جس قدر بانیان مذاہب گزرے ہیں سب کے ۵۔ہاتھوں سے ایسے نشانات اور معجزات ظاہر ہوئے ہیں نشانات و معجزات کا ظہور جن کا ظہور کسی انسان کے ہاتھوں سے نہیں ہوسکتا۔سب سے پہلے تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے دعوی کے ساتھ ہی یہ خبر بھی دے دی ہے کہ میری تعلیم پھیل کر رہے گی اور اس کے ساتھ ٹکر انے والا خود پاش پاش ہو جائے گا اور باوجود اس کے کہ دنیوی لحاظ سے وہ بہت کمزور تھے ، دنیوی علوم کے لحاظ سے صفر تھے اور زمانہ کی رو کے خلاف تعلیم دینے والے تھے اور باوجود اس کے کہ ان کی شدید ترین مخالفت کی گئی پھر بھی وہ غالب آئے اور ان کی بتائی ہوئی خبر پوری ہوئی۔کون انسان قبل از وقت ایسی خبر دے سکتا ہے اور پھر کون سی انسانی طاقت اسے پورا کروا سکتی ہے۔انبیاء کی ترقی اور دنیا وی اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض دوسرے انسانوں نے بھی غیر معمولی ترقیاں کی ہیں مگر یہاں سوال لیڈروں کی ترقی میں فرق غیر معمولی ترقی کا نہیں بلکہ سوال اس بات کا ہے کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے اپنی ترقی کا اعلان کیا اور اپنی اخلاقی زندگی اور موت کو اس پیشگوئی کے ساتھ وابستہ کر دیا اور پھر زمانہ کی رو کے خلاف چلے۔بیشک نپولین ، اسے ہٹلر ، ۳۲ے اور چنگیز خان ۳۳ نے بھی ادنیٰ حالت سے ترقی کی لیکن وہ زمانہ کی رو کے خلاف نہ چلے تھے۔انہوں نے کبھی یہ اعلان نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ باوجود مخالفت کے تم جیت جاؤ گے۔پھر ان کی کبھی شدید مخالفت نہیں ہوئی کیونکہ جس بات کا وہ اعلان کر رہے تھے۔ملک کے اکثر افراد خود اس کے خواہشمند تھے۔ذرائع میں اختلاف ہو تو ہو مگر مقصود میں اختلاف کی نہیں تھا۔اگر وہ ہار جاتے یا ہار گئے تو ان کی عظمت میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔باوجود اس کے وہ ی قوم کے لیڈر بنے رہے اور یہی امید کرتے تھے کہ ہم ہی بنے رہیں مگر ذرا خیال تو کرو کہ اگر موسیقی اور عیسی اور کرشن اور زرتشت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ناکام رہتے تو کیا وہ آئندہ نسلوں میں قوم کے ہیرو کے طور پر یاد کئے جا سکتے تھے؟