انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 420

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۲۰ چه تفسیر القرآن اور اپنے آپ کو بھائی بھائی سمجھو جس طرح خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔۵۱۹ پھر فرماتے یاد رکھو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ مصیبت کے وقت اُس کا ساتھ چھوڑتا ہے نہ مال یا علم یا کسی اور چیز کی کمی کی وجہ سے اُس کو حقیر سمجھتا ہے۔تقویٰ انسان کے دل سے پیدا ہوتا ہے اور انسان کو گندہ کر دینے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے۔اور ہر مسلمان پر اس کے دوسرے مسلمان بھائی کے خون اور اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کرنا حرام ہے اللہ تعالیٰ جسموں کو نہیں دیکھا کرتا نہ صورتوں کو دیکھتا ہے نہ تمہارے اعمال کی ظاہری حالت کو دیکھتا ہے بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔۵۲۰ سودا سلف کے متعلق دھوکا بازی آپ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ مسلمانوں میں دھوکا اور فریب کی کوئی بات نہ اور فریب سے نفرت پائی جائے۔ایک دفعہ آپ بازار میں سے گذر رہے تھے کہ آپ نے غلہ کا ایک ڈھیر دیکھا جو نیلام ہورہا تھا۔آپ نے اپنا ہا تھ غلہ کے ڈھیر میں ڈالا تو معلوم ہوا کہ باہر کی طرف سے تو غلہ سُوکھا ہوا ہے مگر اندر کی طرف سے گیلا ہے۔آپ نے کی اپنا ہاتھ نکال کر غلہ والے سے کہا کہ یہ کیا بات ہے۔اس نے کہا۔يَا رَسُولَ الله ! بارش کا چھینٹا آ گیا تھا جس سے غلہ گیلا ہو گیا۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے مگر تم نے گیلا حصہ باہر کیوں نہ رکھا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جاتا۔پھر فرمایا جو شخص دوسرے لوگوں کو دھوکا دیتا ہے وہ جماعت کا مفید وجود نہیں ہو سکتا۔۵۲۱ آپ بڑی تاکید سے فرماتے تھے کہ تجارت میں بالکل دھوکا نہیں ہونا چاہئے اور بغیر دیکھے کے کوئی چیز نہیں لینی چاہئے اور سو دے پر سودا نہیں کرنا چاہئے اور سامان کو اس لئے روک نہیں رکھنا چاہئے کہ جب اس کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کو فروخت کریں گے۔بلکہ حاجتمندوں کو ساتھ کے ساتھ چیزیں دیتے رہنا چاہئے۔آپ مایوسی کی روح کے سخت خلاف تھے۔فرماتے تھے جو شخص قوم میں مایوسی کی باتیں کرتا ہے وہ قوم کی ہلاکت کا ذمہ دار ہوتا ہے ۵۲۲ کیونکہ بعض ایسی باتوں کے پھیلنے سے قوم کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور پستی کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتی ہے جس طرح فخر اور کی مایوسی