انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 417

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۱۷ دیباچہ تفسیر القرآن دوسرے شہر کو بھاگ جانا نا پسند فرماتے تھے کیونکہ اس طرح ایک علاقہ کی بیماری دوسرے علاقہ میں پھیل جاتی ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایسی بیماری کے علاقہ میں کوئی شخص صبر س صبر سے بیٹھا ر ہے اور دوسرے علاقوں میں وبا پھیلانے کا موجب نہ بنے تو اگر اُسے موت آئے گی تو وہ شہید ہوگا۔۵۱۳ تعاون با همی آپ ہمیشہ اپنے صحابہ کو اس بات کی نصیحت فرماتے تھے کہ آپس میں تعاون کے ساتھ کام کیا کرو۔چنانچہ اپنی جماعت کے لوگوں کے لئے آپ نے یہ اُصول مقرر کر دیا تھا کہ اگر کسی شخص سے کوئی ایسا جرم سرزد ہو جائے جس کے بدلہ میں اُسے کوئی رقم ادا کرنی پڑے اور وہ اُس کی طاقت سے باہر ہو تو اُس کے محلہ والے یا شہر والے یا قوم والے مل کر اُس کا بدلہ ادا کریں۔بعض لوگ جو دین کی خدمت کے لئے آپ کے پاس آیا جاتا کرتے تھے ، آپ اُن کے رشتہ داروں کو نصیحت کرتے تھے کہ اُن کا بوجھ برداشت کریں اور اُن کی ضروریات کا خیال کی رکھیں۔حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو بھائی کی مسلمان ہوئے ایک بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگا اور دوسرا اپنے کی کام کاج میں مشغول رہا۔کام کرنے والے بھائی نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کی شکایت کی کہ یہ نکما بیٹھا رہتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا۔آپ نے فرمایا کی ایسا مت کہو۔خدا تعالیٰ اسی کے ذریعہ سے تمہیں رزق دیتا ہے اس لئے اس کی خدمت کرو اور اس کو دین کے لئے آزاد چھوڑ دو۔۵۱۴ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جارہے تھے کہ رستہ میں ایک منزل پر پہنچ کر ڈیرے لگائے گئے اور صحابہ میدان میں پھیل گئے تا کہ خیمے لگائیں اور دوسرے کام جو کیمپ لگانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں بجالائیں۔اُنہوں نے سب کام آپس میں تقسیم کر لئے اور کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کوئی کام نہ لگایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے میرے ذمہ کوئی کام نہیں لگایا میں لکڑیاں چنوں گا تا کہ اُن سے کھانا پکایا جا سکے۔صحابہ نے کہا ، يَا رَسُولَ اللہ ! ہم جو کام کرنے والے موجود ہیں آپ کو کیا ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا نہیں ! نہیں ! میرا بھی فرض ہے کہ کام میں حصہ لوں۔چنانچہ آپ نے جنگل سے لکڑیاں جمع