انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 375

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۷۵ دیباچہ تفسیر القرآن بتاتا ہے کہ اُس کی امانت اور اُس کا صدق دونوں اتنے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ ان کی مثال عربوں جی کے علم میں کسی اور شخص میں نہیں پائی جاتی تھی۔عرب اپنی باریک بینی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز تھے پس جس چیز کو وہ نادر قرار دیں وہ یقینا دنیا میں نادر ہی سمجھے جانے کے قابل تھی۔پھر ایک اجماعی شہادت آپ کے اخلاق پر حضرت خدیجہ نے آپ کی بعثت کے وقت دی جس کا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح میں ذکر کر چکا ہوں۔اب میں چند مثالیں آپ کے اخلاق کی تشریح کے لئے اس جگہ بیان کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کے اخلاق کے مخفی گوشوں پر بھی اس کتاب کے قارئین کی نظر پڑ سکے۔آنحضرت ﷺ کی ظاہری و باطنی صفائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ نہ آپ کبھی بد کلامی کرتے تھے اور نہ فضول قسمیں کھایا کرتے تھے۔۳۹۴ے عرب میں رہتے ہوئے اس قسم کے اخلاق ایک غیر معمولی چیز تھے۔یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ عرب لوگ عادتا مخش کلامی کرتے تھے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عرب لوگ عادتا قسمیں کھایا کرتے تھے اور آج تک بھی عرب میں قسم کا رواج کثرت سے پایا جاتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا اتنا ادب کرتے تھے کہ اس کا بے موقع نام لینا کبھی پسند نہ کرتے تھے۔صفائی کا آپ کو خاص طور پر خیال رہتا تھا آپ ہمیشہ مسواک کرتے تھے اور اس بارہ میں اتنا زور دیتے تھے کہ بعض دفعہ فرماتے اگر میں اس بات سے نہ ڈروں کہ مسلمان تکلیف میں پڑ جائیں گے تو میں ہر نماز پڑھنے سے پہلے مسواک کرنے کا حکم دے دوں۔۳۹۵ کھانا کھانے سے پہلے بھی آپ ہاتھ دھوتے تھے اور کھانا کھانے کے بعد بھی ہاتھ دھوتے اور گلی کرتے تھے بلکہ ہر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد گلی کرتے اور آپ پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد بغیر گلی کئے نماز پڑھنے کو نا پسند فرماتے تھے۔۳۹۶ے مساجد جومسلمانوں کے جمع ہونے کی واحد جگہ ہیں ان کی صفائی کا آپ خاص طور پر خیال رکھتے تھے اور مسلمانوں کو اس بات کی تحریک کرتے رہتے تھے کہ خاص اجتماع کے دنوں میں مسجدوں کی صفائی کا خیال رکھا کریں اور ان میں خوشبو جلایا کریں تا کہ ہوا صاف ہو جائے۔۳۹۷