انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 376

انوار العلوم جلد ۲۰ ہ دیباچہ تفسیر القرآن اسی طرح آپ ہمیشہ صحابہ کو نصیحت کرتے رہتے تھے کہ اجتماع کے موقع پر بد بودار چیزیں کھا کر مسجد میں نہ آیا کریں۔۳۹۸ سڑکوں کی صفائی کا آپ خاص طور پر وعظ فرماتے تھے۔اگر سڑک پر جھاڑیاں یا پتھر یا اور کوئی گندی چیز پڑی ہوتی تو آپ خود اُس کو اُٹھا کر سڑک سے ایک طرف کر دیتے اور فرماتے کہ جو شخص سڑکوں کی صفائی کا خیال رکھتا ہے، خدا اُس پر خوش ہوتا ہے اور اسے ثواب عطا فرماتا ہے۔۳۹۹ اسی طرح آپ فرماتے تھے رستہ کو روکنا نہیں چاہئے۔رستوں پر بیٹھنا یا ان میں کوئی ایسی چیز ڈال دینا جس سے مسافروں کو تکلیف ہو یا رستہ میں قضائے حاجت وغیرہ کرنا یہ خدا تعالیٰ کو نا پسند ہیں۔۴۰۰ پانی کی صفائی کا بھی آپ کو خاص خیال تھا آپ ہمیشہ اپنے صحابہ کو یہ نصیحت فرماتے تھے کہ کھڑے پانی میں کسی قسم کا گند نہیں ڈالنا چاہئے۔اسی طرح کھڑے پانی میں بول و براز کرنے سے بھی آپ سختی سے روکتے تھے۔۴۰۱ ملحوظ کھانے پینے میں سادگی اور تقومی کھانے پینے میں آپ سادگی کو مبینہ طورط رکھتے تھے۔کھانے میں کبھی نمک زیادہ ہو جائے یا نمک نہ ہو یا کھانا خراب پکا ہو، تو آپ کبھی اظہار ناراضگی نہیں فرماتے تھے۔جہاں تک ممکن ہوسکتا تھا آپ ایسا کھانا کھا کر پکانے والے کو دشکنی سے بچانے کی کوشش کرتے تھے لیکن اگر بالکل ہی نا قابل برداشت ہوتا تو آپ صرف ہاتھ بھینچ لیتے تھے اور یہ ظاہر نہیں کرتے تھے کہ مجھے اس کھانے سے تکلیف پہنچتی ہے۔۴۰۲ جب آپ کھانا کھانے لگتے تو کھانے کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھتے اور فرماتے مجھے یہ تکبرانہ رویہ پسند نہیں کہ بعض لوگ ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہیں گویا وہ کھانے سے مستغنی ہیں۔۴۰۳ جب آپ کے پاس کوئی چیز آتی تو اپنے صحابہ میں بانٹ کر کھاتے۔چنانچہ آپ کے پاس کی دفعہ کچھ کھجور میں آئیں آپ نے صحابہ کا اندازہ لگایا تو سات سات کھجوریں فی کس آتی تھیں۔اس پر آپ نے سات سات کھجور میں صحابہ میں بانٹ دیں۔۴۰۴ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کی روٹی بھی پیٹ بھر