انوارالعلوم (جلد 20) — Page 345
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۴۵ دیباچہ تفسیر القرآن نے پوچھا۔يَا رَسُولَ اللہ! کیا آپ اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ نے فرمایا کیا عقیل نے (یہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے ) ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا بھی ہے؟ یعنی میری ہجرت کے بعد میرے رشتہ داروں نے میری ساری جائیداد بیچ باچ کر کھالی ہے اب مکہ میں میرے لیے کوئی ٹھکانا نہیں۔پھر آپ نے فرمایا ہم حیف بنی کنانہ میں ٹھہریں گے۔یہ مکہ کا ایک میدان تھا جہاں قریش اور کنانہ قبیلہ نے مل کر قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر ہمارے حوالہ نہ کر دیں اور ان کا ساتھ نہ چھوڑ دیں ہم ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے نہ خرید و فروخت کریں گے۔اس عہد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چچا ابوطالب اور آپ کی جماعت کے تمام افراد وادی ابوطالب میں پناہ گزین ہوئے تھے اور تین سال کی شدید تکلیفوں کے بعد خدا تعالیٰ نے انہیں نجات دلائی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب کیسا لطیف تھا۔مکہ والوں نے اسی مقام پر قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سپرد نہ کر دیئے جائیں ہم آپ کے قبیلہ سے صلح نہیں کریں گے۔آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُسی میدان میں جا کر اُترے اور گویا مکہ والوں سے کہا کہ جہاں تم چاہتے تھے میں وہاں آ گیا ہوں مگر بتاؤ تو سہی کیا تم میں طاقت ہے کہ آج مجھے اپنے ظلوں کا نشانہ بنا سکو!! وہی مقام جہاں تم مجھے ذلیل اور مقہور شکل دیکھنا چاہتے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ میری قوم مجھے پکڑ کر اس جگہ تمہارے سپر د کر دے وہاں میں ایسی شکل میں آیا ہوں کہ میری قوم ہی نہیں سارا عرب بھی میرے ساتھ ہے اور میری قوم نے مجھے تمہارے سپرد نہیں کیا بلکہ میری قوم نے تمہیں میرے سپر د کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہ دن بھی پیر کا دن تھا۔وہی دن جس دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار ثور سے نکل کر صرف ای ابو بکر کی معیت میں مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔وہی دن جس میں آپ نے حسرت کے ساتھ ٹور کی پہاڑی پر سے مکہ کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔اے مکہ! تو مجھے دنیا کی ساری بستیوں سے زیادہ پیارا ہے لیکن تیرے باشندے مجھے اس جگہ پر رہنے نہیں دیتے۔۳۵۹ مکہ میں داخل ہوتے وقت حضرت ابو بکر آپ کی اونٹنی کی رکاب پکڑے ہوئے آپ کے ساتھ باتیں بھی کرتے جا رہے تھے اور سورہ فتح جس میں فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی وہ بھی پڑھتے