انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 326

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۲۶ دیباچہ تفسیر القرآن گیا ۳۳۹ اور اس بات پر صلح ہوئی کہ تمام یہودی اور ان کے بیوی بچے خیبر چھوڑ کر مدینہ سے دور چلے جائیں گے اور ان کے تمام اموال مسلمانوں کے حق میں ضبط ہوں گے اور یہ کہ جو شخص اس معاملہ میں جھوٹ سے کام لے گا اور کوئی مال یا جنس چھپا کر رکھے گا وہ اس معاہدہ کی حفاظت میں نہیں آئے گا اور غداری کی سزا کا مستحق ہوگا۔اس جنگ میں تین عجیب واقعات پیش آئے کہ اُن میں سے ایک تین عجیب واقعات تو خدا تعالیٰ کے ایک نشان پر دلالت کرتا ہے اور دورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ پر۔نشان تو یہ ہے کہ اس جنگ کے بعد جب خیبر کے رئیس کنانہ کی بیوی صفیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں تو آپ نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر کچھ لمبے لمبے نشان ہیں۔آپ نے فرمایا صفیہ ! تمہارے یہ نشان کیسے ہیں؟ انہوں نے کہايَا رَسُولَ الله ! ایک دن میں نے ایک خواب دیکھی کہ چاند گر کر میری جھولی میں آپڑا ہے۔میں نے دوسرے دن یہ خواب اپنے خاوند کو سنائی میرے خاوند نے کہا یہ عجیب خواب ہے تمہارا باپ بڑا عالم آدمی ہے اُس کو چل کر یہ خواب سنانی چاہئے۔چنانچہ میں نے اپنے باپ سے اس کا ذکر کیا تو خواب سنتے ہی اُس نے زور سے میرے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا نالائق ! کیا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے ! ۳۴۰ے یہ اس نے اس لئے کہا کہ عرب کا قومی نشان چاند تھا۔اگر کوئی خواب میں یہ دیکھتا کہ چاند اس کی جھولی میں آپڑا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کے بادشاہ کے ساتھ اس کا تعلق ہو گیا ہے اور اگر کوئی خواب دیکھتا کہ چاند پھٹ گیا ہے یا گر گیا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کی حکومت میں تفرقہ پڑ گیا ہے یا وہ تباہ ہوگئی ہے۔یہ خواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا ایک نشان ہے اور اس بات کا بھی نشان ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب کی خبریں دیتا رہتا ہے۔گومؤمنوں کو زیادہ اور غیر مؤمنوں کو کم۔حضرت صفیہ ابھی یہودی ہی تھیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے یہ مصفی غیب عطا فرمایا جس کے مطابق ان کا خاوند معاہدہ کی خلاف ورزی کی سزا میں مارا گیا اور وہ باوجود اس کے کہ ایک اور صحابی کی قید میں گئی تھیں بعض لوگوں کے اصرار پر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور اس طرح وہ غیب پورا ہوا جو خدا تعالیٰ نے انہیں بتایا تھا۔