انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 327

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۲۷ دیباچهتفسیر القرآن دوسرا قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ خیبر کے محاصرہ کے دنوں میں ایک یہودی رئیس کا گلہ بان جو اس کی بکریاں چرایا کرتا تھا مسلمان ہو گیا۔مسلمان ہونے کے بعد اس نے کہایا رَسُولَ الله ! میں اب ان لوگوں میں تو جانہیں سکتا اور یہ بکریاں اُس یہودی کی میرے پاس امانت ہیں اب میں ان کو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا بکریوں کا منہ قلعہ کی طرف کر دو اور ان کو دھکیل دو۔خدا تعالیٰ ان کو ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔چنانچہ اس نے اسی طرح کیا اور بکریاں قلعہ کے پاس چلی گئیں جہاں سے قلعہ والوں نے ان کو اندر داخل کر لیا۔۳۴۱ اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت سے امانت کے اصول پر عمل کرتے تھے اور کرواتے تھے۔لڑنے والوں کے اموال آج بھی جنگ میں حلال سمجھتے جاتے ہیں کیا ایسا واقعہ آجکل کے زمانہ میں جو مہذب زمانہ کہلا تا ہے کبھی ہوا ہے کہ دشمن فوج کے جانور ہاتھ آگئے ہوں تو ان کو دشمن فوج کی طرف واپس کر دیا گیا ہو؟ باوجود اس کے کہ وہ بکریاں ایک لڑنے والے دشمن کا مال تھیں اور باوجود اس کے کہ ان کے قلعے میں واپس چلے جانے کے نتیجہ میں دشمن کے لئے مہینوں کی غذا کا سامان ہو جاتا تھا جس کے بھروسہ پر وہ ایک لمبے عرصہ تک محاصرہ کو جاری رکھ سکتا تھا۔آپ نے ان بکریوں کو قلعہ میں واپس کروا دیا تا ایسا نہ ہو کہ اس مسلمان کی امانت میں فرق آئے جس کے سپر دبکریاں تھیں۔تیسرا واقعہ یہ ہوا کہ ایک یہودی عورت نے صحابہ سے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جانور کے کس حصہ کا گوشت زیادہ پسند ہے؟ صحابہ نے بتایا کہ آپ کو دست کا گوشت زیادہ پسند ہے۔اس پر اس نے بکرا ذبح کیا اور پتھروں پر اس کے کباب بنائے اور پھر اس گوشت میں زہر ملا دیا۔خصوصاً بازوؤں میں جس کے متعلق اسے بتایا گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں کا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں۔سورج ڈوبنے کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کی نماز پڑھ کر اپنے ڈیرے کی طرف واپس آرہے تھے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے خیمے کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے۔آپ نے اس سے پوچھا۔بی بی تمہارا کیا کام ہے؟ اس نے کہا اے ابو القاسم ! میں آپ کے لئے ایک تحفہ لائی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ساتھی صحابی سے فرمایا جو چیز یہ دیتی